16 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 9:1
کانگو وائرس،ایک خاندان کے چار افراد کی ہلاکت ان گنت سوال چھوڑ گئی
ایبٹ آباد…اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کانگو وائرس کے شکار ایک ہی خاندان کے چار افراد صرف چند ہی دنوں میں اپنی جان کی بازی ہار گئے ، یہ وائرس کہاں سے آیا اور کیا باقی لوگ اس سے محفوظ ہیں ؟؟ ایبٹ آبادمیں ایک گھرانہ کانگووائرس کااس وقت شکاربن گیاجب قصاب باپ اوربیٹوں نے وائرس سے متاثرہ گائے کو ذبح کیا۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج رہنے کے بعد انہیں پمز اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ڈاکٹر ز کے مطابق متاثرہ مریضوں کے پلیٹ لیٹس کم ہوتے گئے اوران کے جسم سے خون رسنے لگا۔صرف دس دنوں میں چاروں باپ بیٹے اپنے پیاروں کو روتا چھوڑ کر دنیاسے رخصت ہوگئے۔ایک ہی گھر سے ہردوسرے دن ایک جنازہ اٹھتا رہا اور اپنے پیچھے ان گنت سوالات چھوڑ گیا۔کانگو وائرس سے متاثرہ جانور کو ذبح ہی کیوں کیا گیا ؟کیا سلاٹر ہاوٴس میں اس جانور کا میڈیکل چیک اپ ہوا تھا ؟وینٹری ڈاکٹر کہاں تھا ؟متاثرہ گائے کاٹنے والے تو لقمہ اجل بن گئے ،متاثرہ جانور کا گوشت کھانے والوں کا کیا ہو گا ؟اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مارکیٹ میں دستاب گوشت میں کانگو وائرس نہیں ؟؟ لوگ کس طرح جان پائیں گے کہ جو گوشت وہ کھا رہے ہیں وہ کانگو وائرس سے محفوظ ہے؟دکھی خاندان تو یہ بھی پوچھتا ہے کہ زمہ داران کے خلاف کاروائی کب ہو گی اور کون کرے گا ؟