تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
11 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 3:20

حیدرآباد میں ڈینگی کابے قابو جن شہریوں کو تیزی سے اپنی گرفت میں لینے لگا

حیدرآباد…حیدرآباد میں ڈینگی کابے قابو جن شہریوں کو تیزی سے اپنی گرفت میں لے رہاہے۔شہری کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں بھی حیدرآبادشہر اسپرے کو ترس رہاہے جبکہ اسپرے نہ کرنے کی ذمہ داری کوئی قبول کرنے کو ہی تیار نہیں۔گندگی کے ڈھیر ،اکثرسڑکوں پرجگہ جگہ گندہ پانی اور مریضوں سے بھرے اسپتال ، یہ ہے حیدرآباد شہر کا حال جہاں بلدیاتی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی عدم دلچسپی اور عدم توجہہ کے باعث شہر میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران لیاقت یونیورسٹی جامشورو کی ریسرچ اینڈ ڈائیگنوسٹک لیبارٹری میں 27 ہزار افرا د کے ملیریا ، ڈینگی اور ٹایئفائیڈ کے ٹیسٹ ہوئے تو اْن میں سے 1800 مریض ڈینگی بخار میں مبتلا تھے۔ شہری شکایت کرتے ہیں کہ مچھروں کی بہتات ہے۔ڈینگی کابڑھتا مرض روکنے کے لئے کوئی اسپرے نہیں کیاجاتا۔ ڈینگی کا پھیلتا خطرہ ایک طرف لیکن انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شہر میں صرف 247 ڈینگی کے مریض سامنے آئے ہیں اوراسپرے کی ذمے داری بلدیاتی اداروں پر ہے جبکہ محکمہ صحت اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈالتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈینگی کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظرفوری طور ہنگامی بنیادوں پر اسپرے اور ڈینگی سے بچاؤ کی مہم چلائی جائے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.