19 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 2:5
گھریلو کام ورزش کا نعم البدل نہیں،نئی تحقیق
لندن… این جی ٹی…ہماری گھریلو خواتین سارا دن کاموں میں جتی رہتی ہیں اور اسی کو ورزش تصور کر کے مطمئن ہوجاتی ہیں۔مگربری خبر یہ ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گھریلو کام کرنے میں اتنی توانائی صرف نہیں ہوتی کہ یہ ورزش کا نعم البدل ہو سکے۔پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ گھریلو کام کرنے سے ہفتے میں 150 منٹ کی تجویز کردہ لازمی ورزش کی ضرورت نہیں رہتی۔برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں کہا گیاہے کہ گھریلو کام اور پتلا پن ایک دوسرے کے برعکس ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ یا تو گھریلو کام کرنے کو کوئی بہت بڑی جسمانی سرگرمی سمجھتے ہیں یا جتنے کام کرتے ہیں اس کی نسبت کھاتے بہت زیادہ ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی جسمانی کام کا فائدہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کام کے دوران سانس میں تیزی آئے اور دل کی دھڑکن تیز ہو جائے۔ تو خواتین کمر کس لیں ورزش بہت ضروری ہے۔