7 نومبر 2013
وقت اشاعت: 16:20
خون کے مرض تھیلیسیمیاں کی نئی دوا مثبت اثر دکھانے لگی
پشاور…تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو نئی تیار کردہ ہائیڈرو آکسی یوریا نامی دوائی دی جا رہی ہے یہ دوائی متاثرہ بچوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے ، سات سالہ حسنہ اور آٹھ سالہ عدنان جو بچپن ہی سے تھیلی سیما جیسے خطرناک مرض کا شکار ہو ئے۔ ان بچوں کو ہر ماہ بعد دو سے تین بار خون لگوایا جا تا تھا بچوں کو اس تکلیف دہ عمل سے بچانے کے لیے ہائیڈرو آکسی یوریا دوائی کا استعمال تجویز کیا گیا۔ اس دوائی کے استعمال کے مثبت اثرات سامنے آئے ان بچوں کو نو ماہ میں ایک بار بھی خون لگوانے کی ضرورت نہیں پڑی۔قومی مرکز امراض خون کے مطابق خیبر پختونخوا میں تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلا 155 بچوں کو کوہائیڈرو آکسی یو ریاکی دوا دی گئی اس دوائی کے استعمال سے 29 ایسے بچے ہیں جن کو ایک سال کے دوران خون نہیں لگوایا گیا جبکہ 126 ایسے مریض ہیں جس کے خون لگانے کے دوارنیہ میں اضافہ ہوا ہے ماہرین کے مطابق اس دوا کے استعمال سے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال خیبر پختونخوا میں دیگرصوبوں کی نسبت تھیلی سیمیا کے نئے 2 ہزار مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے تھیلی سیمیا کے مرض کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ خاندانوں میں شادیوں کو قرار دیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کوہائیڈرو آکسی دوائی کے استعمال سے تھیلی سیمیا میں مبتلا بچوں میں خوان کے نئے خلیات بنتے رہتے ہیں جس سے مریضوں کو خون لگوانے کی ضرورت بہت کم پڑتی ہے ۔