12 نومبر 2013
وقت اشاعت: 5:56
آج نمونیہ کے مرض سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے
کراچی…آج نمونیا کے مرض سے آگاہی کا دن منایا جا رہا ہے۔پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں18فیصد اموات کی وجہ نمونیاہے۔یہ مرض کیاہے؟اس سے بچاکیسے جاسکتاہے؟رپورٹ کے مطابق تیز بخار، نزلہ، زکام کی علامات کے ساتھ جب پھیپھڑوں میں انفیکشن ہوجائے تو لاحق مرض نمونیا کہلاتا ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق یہ مرض دنیابھرمیں ہرسال 20لاکھ جانیں لیتاہے اور پاکستان میں بھی 5سال سے کم عمر کے 92ہزار بچے ہرسال لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ مرض سے بچاکیسے جائے؟اس حوالے سے پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کے سربراہ پروفیسر تابش حاضر کا کہنا ہے کہ اگر مائیں 6 ماہ تکبچوں کو دودھ پلائیں اور پھر ان کی ٹھوس غذا میں یہ دیکھاجائے کہ کیلوریز کی مقدار پوری ہے ،تو بہت سی اموات کم ہوسکتی ہیں،والدین کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکو ں کا کورس کرالیں اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک ٹیکہ 6 ہزار کا آتاہے اور 18 ہزار کے انجکشنز فری میں لگ رہے ہیں اور والدین وہ بھی نہیں لگوارہے۔ نمونیا سے بچاوٴ کی ویکسین پاکستان میں مفت دستیاب ہے۔ ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ پیدائش کے بعد 6۔10 اور 14 ہفتے کی عمر میں بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگوالیں۔صرف حفاظتی ٹیکوں کے کورس سے دنیا میں سالانہ 30لاکھ جانیں بچانے کے علاوہ 75ہزار بچوں کو معذور ہونے سے بھی بچایا جاتا ہے۔