1 دسمبر 2013
وقت اشاعت: 5:48
بلوچستان میں ایڈز کی روک تھام کی سہولیات ناکافی
کوئٹہ…بلوچستان میں ایڈز جیسے مرض کی روک تھام ، آگہی اور علاج معالجے کی سہولیات کا ہونا دیوانے کاخواب لگتاہے۔صوبے میں ایڈزکے مریض توہیں مگراس مرض کی روک تھام کیلیے کچھ نہیں ہورہا۔بلوچستان جہاں صحت کی بنیادی سہولتوں کا ہی فقدان ہے وہاں ایڈز جیسے پیچیدہ مرض کے لیے کوئی خاطر خواہ سہولیات میسر ہوں گی یہ سوچنا بھی زخموں پرنمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔ڈاکٹرزکے مطابق صوبیمیں ایڈزکے مریضوں کی تعدادمسلسل بڑھ رہی ہے۔ایڈز کے حوالے سے صورتحال بلوچستان میں گھمبیر ہے،ویسے تو ہمارے پاس اب تک 288کیسز ایڈز کے رپورٹ ہوئے تھے مگر چونکہ یہاں باقاعدہ کوئی سروے یا اسٹڈی ایسی نہیں ہوئی ہے جس سے اندازہ ہو،ویسے ایک اندازے کے مطابق یہاں پانچ ہزار تک کیسز ہوسکتے ہیں۔ایڈز کی گھمبیر ہوتی صورتحال اور حکومت کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ اس جاں لیوا مرض کے علاج معالجے اور روک تھام کے لیے سرکاری سطح پر کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ،ایڈزکنٹرول پروگرام کی جانب سے ایک پی سی ون متعلقہ حکام کے پاس منظوری کا منتظر ہے،جبکہ ایڈز کے مریضوں کی کونسلنگ کے لیے سرکاری سطح پر ایک مرکز بی ایم سی اسپتال میں کام کررہا ہے جہاں مریضوں کے لیے یو این ایچ سی آر کی جانب سے مہیا کردہ ادویات اور خون کی اسکریننگ کٹس عطیہ کی جاتی ہیں۔ہم گذشتہ سات سال سے ایچ آئی وی سے بچاوٴ کے پروگرام سے منسلک ہیں اور یہ کام ہم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ یعنی انجیکشن سے نشہ کرنے والے افراد پر کررہے ہیں۔زمینی حقائق کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کی روک تھام کے لیے جامع اور موثر آگہی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اس مرض کی صحیح صورتحال جاننے کے لیے تمام شہریوں کی اسکریننگ کا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔