21 مارچ 2014
وقت اشاعت: 12:1
بلوچستان کا اعزاز ، ڈیڑھ سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
کوئٹہ…بلوچستان میں سال 2004سے2012تک پولیو کے رکارڈ 138کیسز رپورٹ ہوئے، مگر خوش قسمتی سے گذشتہ ڈیڑھ سال سے صوبے میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔بلوچستان میں پولیو کا پہلا کیس سال 2004میں سامنے آیااور اس کے بعد پولیو کے کیسز مسلسل رپورٹ ہوتے رہے،پولیو کے حوالے سے سال 2011میں صورتحال انتہائی تشویشناک رہی اور اس سال 73کیسز رپورٹ ہوئے،جن میں 15 کا تعلق کوئٹہ سے تھا ،تاہم بعد میں حکومتی سطح پر اورعالمی ادارہ صحت کی کوششوں سے صورتحال بہتر ہوئی اور جون 2012 سے کوئٹہ اور اکتوبر 2012سے بلوچستان بھر سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہواپولیو سے پاک بلوچستان برقرار رکھنے کیلئے 24مارچ سے انسداد پولیومہم کا آغاز بھی کیا جارہا ہے ،صوبائی مینیجر ای پی آئی ڈاکٹر محمد اسحاق پانیزئی کے مطابق تین روزہ مہم 24مارچ سے شروع ہورہی ہے،اس کے لئے سارے انتظامات مکمل ہیں،ہمارا ٹارگٹ اس بار 22لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی علاقے سے اگر مسلسل تین سال تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہو تو اسے پولیو سے پاک ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیاجاتاہے،ماہرین کہتے ہیں کہ بلوچستان کو یہ اعزاز اپنے نام کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھنا ہوں گی ۔