14 جولائی 2014
وقت اشاعت: 18:42
خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ
پشاور......خیبرپختونخوا میں افغانستان سے آنے والے کانگووائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ہسپتالوں میں ان کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں،افغانستان سے پشاورپہنچنے والے ان مریضوں کے لئے یہاں کے دوبڑے ہسپتالوں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اورخیبرٹیچنگ ہسپتال میں علیحدہ وارڈز بنائے گئے ہیں جہاں انہیں تنہائی میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان مریضوں کو لگنے والا وائرس اورلوگوں کومنتقل نہ ہو۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران کانگوکے گیارہ مریض ہسپتال لائے گئے ہیں جن میں سے چارکی موت واقع ہوچکی ہے۔یہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اوربہت سارے جراثیموں کے مقابلے میں یہ وائرس زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اس سے ہونے والے بخارکو کریمین ہیمرجک کانگوفیور کہا جا تا ہے۔ڈاکٹرکہتے ہیں کہ بے خبری میں جانوروں کے ساتھ مس ہونے سے لگتا ہے۔ کانگو وائرس کے انفیکشن کے بعد جسم سے خون کا اخراج شروع ہوجاتا ہے ۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کے وقت خصوصا ان کی صفائی کے وقت پوری احتیاط کرنی چاہیئے کیونکہ جانوروں کے جسم میں پلنے والے بعض وائرس یا جراثیم انسان کو تھوڑی ہی دیرمیں ہسپتال کے بیڈ اوراس کے بعددوسری دنیا بھیجنے کا باعث بن جاتے ہیں۔