19 جولائی 2014
وقت اشاعت: 10:34
نگلیریا سے سندھ میں چھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں
کراچی......نگلیر یا ایسا جر ثومہ ہے جو ناک کے ذریعے دماغ کو متاثر کر کے انسانی جان لے لیتا ہے۔اس مرض نے اب تک سندھ میں چھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ حکام محض دعویٰ کررہے ۔نگلیریا صاف پانی میں پرورش پانے والا جرثومہ ہے جو ناک کے ذریعے دماغ کی جھلی کو متاثر کر تے ہو ئے اسے کھانا شروع کردیتا ہے جس سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔نگلیریا منہ کے ذریعے دماغ تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی یہ جرثومہ نمکین پانی میں زندہ رہ پاتا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق پینے او ر وضو کرنے کے لیے پانی کو سو ڈگری پر اچھی طرح ابالنا نگلیریا کے جرثومے کے خاتمے کا باعث بن جاتا ہے۔ کراچی میں اب تک پانچ اورحیدرآباد میں ایک شخص نگلیریا کے باعث جان گنوا چکا ہے اور کئی افراد اب بھی نجی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کراچی کے جن علاقوں میں موجود نہیں ان میں گلشن اقبال،بلدیہ ٹاون ،اورنگی ٹاون،گڈاپ ،سائٹ ،لیاری ،گلبرگ،لیاقت آباداور نارتھ کراچی سر فہرست ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں شاہ فیصل کالونی ،لانڈھی،کورنگی،بن قاسم ،جمشید ٹاون ،صدر اور گلشن اقبال شامل ہیں۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گھروں میں موجود ٹینکوں کی سال میں کم سے کم دو بار صفائی کی جائے اور کلورین کا استعمال کیا جائے۔ محکمہ صحت اور واٹر بورڈ حکام کی جانب سےشہر کے مختلف مقامات سے 30 مئی سے 5 جولائی تک کل 1069 پانی کے نمونے حاصل جس میں سے 250سے زائد میں کلورین کی کمی سامنے آئی ۔ذرائع کے مطابق واٹر بورڈ حکام کو پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار کو پورا کرنے کے لیے ماہانہ ایک کروڑوں روپے فراہم کئے جاتے ہیں جس میں صرف 30 فیصد ہی لگائے جاتے ہیں۔یہی نہیں محکمہ صحت میں سیکرٹری اور وزیر صحت کے درمیان اختیارات کی جنگ کے باعث نگلیریا کمیٹی پر کام کرنے والے افسران بھی تذبذب کا شکار ہیں۔