تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
8 مئی 2012
وقت اشاعت: 10:2

پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھلیسیمیا کا شکار

لاہور… پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ بچے تھلیسیمیا کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس بیماری میں مبتلا بچوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تھلیسیمیا ایک موروثی مرض ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کے خون میں ہیموگلوبن بنانے کی صلاحیت نہیں رہتی۔ بھوک نہ لگنا، زرد رنگت، الٹیاں اور تیز بخار اس مرض کی واضح علامات ہیں۔ بچوں کو پیدائش کے تین ماہ بعد ہی خون تبدیل کروانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے خواتین اور مردوں کی خون کی اسکریننگ ہو جائے تو بچے اس مہلک مرض سے بچ سکتے ہیں۔ تھلیسیما کا واحد علاج بون میرو ہے جو انتہائی مہنگا اور تکلیف دہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھلیسیمیا کے حوالے سے قانون سازی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کو اس مہلک مرض سے بچایا جا سکے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.