3 اپریل 2013
وقت اشاعت: 16:58
اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت ملتوی
آج نیوز - سپریم کورٹ میں اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت آٹھ اپریل تک ملتوی،چیف جسٹس کہتے ہیں پرویز مشرف ملک میں موجود ہیں، ہر کام عدالتیں نہیں کر سکتیں،عدالتی پلیٹ فارم کو کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حراستی مراکز میں قید افراد کے خلاف شواہد موجود ہیں تو انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے،حساس اداروں کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ ان افراد کو حراستی مراکز میں رکھنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحویل میں رکھنے کا معاملہ الگ کرکے فیصلہ دیں گے، اگر قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا تو پھر درخواست غیر موٴثر ہو جائے گی،دوران سماعت پروفیسر ابراہیم کے وکیل غلام نبی نے حساس اداروں کی رپورٹ پر تحریری جواب جمع کرایا،،عدالت نے انہیں سول پاور ریگولیشن کے خلاف کی گئی استدعا سے متعلق قانونی نکات پر دلائل دینے کی ہدایت کی، غلام نبی نے عدالت کو بتایا کہ پینٹاگون کے کہنے پر شمالی و جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ امریکہ تک عدالت کا دائرہ کار نہیں،پینٹاگون کا لفظ نکال دیا جائے،غلام نبی نے کہا کہ اگر پینٹاگون کے خلاف حکم جاری نہیں کر سکتے تو پرویز مشرف کے خلاف تو حکم جاری کرسکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف اس جگہ کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیں گے، ہمت کریں اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرائیں،وہ ملک میں موجود ہیں،کیا ہر کام اب عدالت کو ہی کرنا ہوگا ،اگر آپ نے قانونی نکات پر دلائل نہیں دینے تو آپ کی درخواست کو اس کیس سے الگ کردیں گے،بعد ازاں لاپتہ قیدیوں کے کیس کی مزید سماعت ایٹھ فروری تک ملتوی کردی گئی۔