4 اپریل 2013
وقت اشاعت: 9:9
بلوچستان میں انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنا مثبت اشارہ ہے، عدالت
آج نیوز - سپریم کورٹ نے سابق ایڈوکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی بازیابی کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے، عدالت نے عبوری حکم میں کہا ہے کہ بلوچستان میں کسی کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنا مثبت اشارہ ہے۔ بلوچستان بدامنی سانحہ ہزارہ ٹاوٴن از خود نوٹس کی سماعت جسٹس گلزار اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے کی،صوبائی حکومت کے وکیل شاہد حامد نے صوبے میں امن و امان کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں حالات بہتر ہو رہے ہیں اور انتخابی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ تیرہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ تریسٹھ افراد کا سراغ لگانا باقی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا حکومت کی یہی کارکردگی ہے کہ ایک اور وکیل اغوا ہوگیا؟ جسٹس گلزار نے کہا کہ پہلے وکلا اغوا ہوئے اب ایڈوکیٹ جنرل کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ سابق ایڈوکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل کی بازیابی کیلئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ صلاح الدین مینگل کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، تاہم لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وفاق کی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت داخلہ صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے عبوری حکم میں قرار دیا ہے کہ بلوچستان میں کسی جماعت کی جانب سے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنا مثبت اشارہ ہے۔