تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
8 اپریل 2013
وقت اشاعت: 10:7

مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سما عت

آج نیوز - سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف غداری کے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران وفاق کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جسٹس جواد ایس خواجہ کہتے ہیں مقدمہ چلانا حکومت کا کام ہے،عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرے گی سپریم کورٹ میں سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل پرویز مشرف (ریٹائرڈ)کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی درخواست کی ابتدائی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کر رہا ہے،درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیا ہے، اکتیس جولائی کے فیصلے میں بھی درج ہے کی مشرف نے ایئین سے انحراف کیا،مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی،انکے خلاف ارٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہئے،قانون کے مطابق ایئین سے غداری کی سزا موت ہے،درخواست گزار توفیق ای ایس ایف کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ مشرف کیخلاف کارروائی کیلئے سینیٹ میں بھی قرارداد پاس ہوئی،بینچ کے رکن جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ مشرف بھاگے،نہیں عزت کے ساتھ باہر گئے تھے تاہم ایئین توڑنا ایسا عمل ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،دیکھنا یہ کہ وفاق نے اتنے بڑے جرم پر اب تک کارروائی کیوں نہیں کی،حکومت عدالتی فیصلوں پر لیت و لعل سے کام لیرہی ہے، جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ ابھی یہ دیکھنا ہے کہ حکومت کا موٴقف کیا ہے اور غداری کا مقدمہ کونسی عدالت میں چلے گا،، مشرف کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے ابتدائی طور پر تین رکنی بینچ کا اعلان کیا گیا تھا جس کی سربراہی چیف جسٹس نے کرنی تھی تاہم اتوار کو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ سابق فوجی صدر کے خلاف پاکستانی قانون کے تحت کارروائی کرے۔یہ درخواست ابتدائی طور پر سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس نے مشرف کو 'غدار' قرار دیتے ہوئے درخواست گْزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا،،کیس کی سماعت ابھی جاری ہے ،،

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.