11 اپریل 2013
وقت اشاعت: 8:44
اڈیالہ جیل لاپتہ قیدی کیس: فوج سے تحریری جواب طلب
آج نیوز - سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے کیس میں فوج سے ایک بجے تک تحریری جواب مانگ لیا، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں جب ہم فیصلہ دیں گے تو پورا اسٹرکچر دھڑام کر کے گرے گا، افراد کے ہاتھوں اداروں کو برباد نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت کررہا ہے، اٹارنی جنرل عرفان قادر نے فاٹا میں ایف سی آر قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو قانون سازی کا اختیار ہے اور وہ کسی کو جواب دہ نہیں۔ صدر مملکت آرٹیکل دو سو سینتالیس کے تحت ریگولیشن کر سکتے ہیں، امریکہ اور اسرائیل سمیت کئی ممالک میں دہشت گردی کیخلاف قوانین موجود ہیں تاہم اکثر ممالک میں عدالتوں کو قوانین کاجائزہ لینے کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں مخصوص حالات کے باعث فوج تعینات کی گئی اور باغیوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مارشل لاء دور میں بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کئے گئے۔ چیف سیکریٹری پنجاب کا بیان حلفی ہے کہ ایجنسیاں اڈیالہ جیل سے قیدیوں کو لے گئیں۔ اس معاملے کو صرف ایگزیکٹوز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ فوج کو بطور ادارہ بدنام نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے فوج سے ایک بجے تک تحریری جواب مانگ لیا۔ چیف جسٹس کہتے ہیں کہ صورتحال بہت سنجیدہ ہو گئی ہے، قانون کا مذاق نہ اڑایا جائے، ایک فرد اور ادارے کے فعل میں فرق ہوتا ہے، افراد کے ہاتھوں اداروں کو برباد نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں جب ہم فیصلہ دیں گے تو پورا اسٹرکچر دھڑام کر کے گرے گا۔