14 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 12:17
لاہور پولیس معصوم بچی سے زیادتی کے مجرم کو پکڑنے میں تاحال ناکام
جیو نیوز - لاہور…لاہور پولیس معصوم بچی سے زیادتی کے مجرم کو پکڑنے میں تاحال ناکام ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کا حکم دیا جبکہ ڈاکٹر ز نے کہا ہے کہ بچی کی حالت بہتر ہے تاہم ابھی وہ بیان دینے کے قابل نہیں ہے۔لاہور میں بچی سے زیادتی کے واقعے کی رپورٹ آئی جی پنجاب نے سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے گنگا رام اسپتال سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی، فوٹیج میں ایک مشتبہ شخص بچی کو اسپتال میں چھوڑ کر جا رہا ہے، پانچ سالہ بچی سنبل مغلوپورہ اور اس کاکزن تین سالہ احمد یار شام چھ بجے اغواء ہوئے اسی شام 8.30پر بچی کو زیادتی کے بعد گنگا رام اسپتال میں چھوڑدیا گیا۔سی سی ٹی وی وڈیو کے مطابق بچی کو تشویش ناک حالت میں اسپتال کے باہرچھوڑا گیا۔ میڈیکل رپورٹ سے بچی کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایک ٹیم ایس پی سول لائنز اور دوسری ٹیم ایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے، ملزم کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ڈاکٹرز کا کہناہے کہ علاج کے بعد اب بچی کی حالت بہترہے،تاہم ابھی وہ خوف زدہ ہے اور بیان دینے کے قابل نہیں ہے ۔پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سی سی پی او لاہورکو ہدایت کی ہے کہ کم سن بچی سے زیادتی کے ملزموں کی جلد گرفتاری کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔واضح رہے کہ واقعے پر چیف جسٹس پاکستان افتخارمحمد چودھری نے ازخود نوٹس لیا اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی ، سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی آئی جی پنجاب کی رپورٹ چیف جسٹس کوبھی بجھوادی گئی ہے۔