20 اپریل 2014
وقت اشاعت: 19:44
قاتلانہ حملے مہاجر صوبہ تحریک کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے، سلیم حیدر
جیو نیوز - کراچی…بانی تحریک مہاجر صوبہ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ بزدلانہ جان لیوا قاتلانہ حملے ہمیں مہاجر صوبہ تحریک کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ اس طرح کی حرکات سے ہماری جدوجہد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہمارے نہ صرف حوصلے بلند ہیں بلکہ ہم اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ خون کے آخری قطرے اور آخری کارکن تک مہاجر صوبے کے قیام کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ماضی میں بھی ہم پر بزدلانہ حملے کئے گئے ۔ ہم نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن نہ تو ہمارے ارادوں میں لرزش آئی اور نہ ہی ہم نے اپنے لوگوں سے منہ موڑ کر جلاوطنی اختیار کی۔ وہ مقامی اسپتال میں اپنی عیادت کے لیے آنے والے کارکنوں ، اراکین اسمبلی ، معززین سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں سے بات چیت کررہے تھے ۔ اس موقع پر MIT کے مرکزی رہنما بہارالدین شیخ ، راشد قریشی، اعجاز شیخ ، فرید خان ، زاہد مغل بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ مہاجر صوبے کا پیغام اور تحریک کو تیز کردیں کیونکہ اب ہماری منزل قریب سے قریب آتی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن علیحدگی پسند قوتیں ہماری جان کے درپے ہوگئی ہیں اور ہم پر بزدلانہ حملے کرکے ہمیں اپنے مقصد اور جدوجہد سے باز رکھنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ MIT کی 30 سالہ جدوجہد اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے بدترین سے بدترین حالا میں بھی مہاجروں کے حقوق کی جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو مقتل بنادیا گیا ہے یہاں رقص بسمل ہورہا ہے اور صوبائی حکمران اندرون سندھ مراعاتیں باٹنے اور کمیشن وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سمیت کابینہ کو کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ کھوکھلے دعوے اور بے بنیاد وعدے کرکے مہاجروں کو بیوقوف بنارہے ہیں ۔ دریں اثناء اتوار کو مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، اراکین اسمبلی اورپارٹی کارکنوں نے اسپتال پہنچ کر اُن کی عیادت کی ۔ عیادت کرنے والوں میں رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی ،ایم این اے مزمل قریشی، مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی عبدالحکیم بلوچ، اعجاز محمود،رکن سندھ اسمبلی ارتضاء فاروقی، اظہار احمد خان، اختر فاروقی، شیخ اسماعیل عظیم، بیرسٹر احمد رضا قصوری، محمد علی جعفری، فاروق قریشی،پیارے میاں، اظہار عالم ایڈوکیٹ، ندیم مرزا ،خالد ممتاز، بہارالدین شیخ،راشد قریشی،عجاز شیخ اور دیگر شامل تھے ۔