27 اپریل 2014
وقت اشاعت: 4:13
کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کیلیے نیک نامی نہیں، رانا ثنا اللہ
جیو نیوز - لاہور…پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کے لیے نیک نامی نہیں، ان چیزوں سے محتاط رہنا ہوگا۔ حامد میر سمیت ہر پاکستانی پاک فوج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کچھ عناصر فوج کو میڈیا اور حکومت سے الجھانا چاہتے ہیں جو فوج یا حکومت کے خیرخواہ نہیں۔ ایک کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے اور ایک مشکوک شخص کی جانب سے فوج کا طرف دار بن جانا فوج کے ساتھ ہمدردی نہیں۔ حامد میر سمیت ہر پاکستانی پاک فوج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن جہاں تک بعض نام نہاد لوگ جو فوج کے طرفدار بنے ہوئے ہیں اور وہ ایک صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جو کہ فوج کو الجھانا چاہتے ہیں ۔میڈیا کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ فوج کے یا اس قوم کے یا اس ملک کے خیرخواہ نہیں اور یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک کالعدم تنظیم فوج کے حق میں مظاہرہ کرے اور اسے پوری دنیا میں دیکھا جائے اور اسی طرح سے ایک ایسا شخص جس کا اپنا کردار انتہائی مشکوک ہے اور جو عوام میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ فوج کا طرفدار بن کر احتجاج کرے تو یہ ساری چیزیں فوج کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہمیں ان باتوں سے محتاط رہنا چاہیے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عامر میر نے جذبات میں بات کی جس کا آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم باجوہ نے مناسب جواب دے دیا تھا۔ باقی جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جیو نے عامر میر صاحب کا بیان یا بیپر نشر کیا جس میں انہوں نے الزام لگایا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسا شخص جس کا بھائی موت و حیات کی کشمکش میں ہو تو کیا اسے رونے کا حق بھی نہیں دیا جانا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عامر میر نے جذبات میں جو بات کی ہے وہ بات بالکل ان کی جگہ پر کوئی اور ہوتا تو شاید اس کے بھی جذبات یہ ہوتے اور آئی ایس پی آر کی طرف سے جو جنرل عاصم باجوہ صاحب نے بات کی تھی انھوں نے بہت مناسب بات کی تھی کہ عامر میر نے ایک جذباتی کیفیت میں بات کی ہے، ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ اور ہم اس مقدمے کی تحقیقات میں حصہ لیں گے اور کوشش کریں گے کہ اس حملے کے ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے، ان کو سامنے لایا جا سکے۔ پنجاب کے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کچھ چینل جیو سے تجارتی انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ جو خودساختہ ترجمان بنے ہوئے ہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی کے، ان لوگوں نے اور ان میں کچھ ہمارے چینلز کے لوگوں نے جو بزنس سکور سیٹل کرنے میں لگ گئے اور اس کی وجہ سے جو فضا بنائی گئی ہے اور جس میں اب معاملہ جیو اور جنگ کی بندش کی طرف لے جایا جا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ملک کے لیے بھی اور ہمارے اداروں کے لیے بھی کسی طور پر بھی سودمند نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جنگ اور جیو کی بندش سے کسی ادارے کو فائدہ نہیں ہوگا۔ جنگ اور جیو کی بندش کوئی آپشن نہیں ہے اور اس سے حالات اور بگڑیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کسی بھی ادارے کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر ہوں گے۔