3 مئی 2014
وقت اشاعت: 22:40
جنگ اور جیو پر آنچ نہیں آنے دیں گے، سینئر صحافیوں کا عزم
جیو نیوز - لاہور…پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ آزادی صحافت کے لیے لڑائی بڑی اور تاریخ ساز ہوگی، عامر میر کے خلاف مقدمہ ختم اور جیو جنگ کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوراً بند کی جائیں۔پی ایف یو جے کے رہنما رانا عظیم نے کہا ہے کہ کسی میڈیا ہاوٴس پر بندش لگائی گئی تو ان کی تمام جدوجہد کارکنوں کے لیے ہو گی۔افضل بٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو مقدمات سے ڈرایا نہیں جاسکتا ۔آزادی صحافت کے عالمی دن پر لاہور کے ایوان اقبال میں تقریب منعقد کی گئی جس کا اہتمام پی ایف یو جے نے کیا ، اس تقریب میں آزادی صحافت کے لئے کوڑے کھانے والے تین ہیروز نے بھی شرکت کی۔سیاسی اور صحافتی شخصیات نے آزادی صحافت کو اولین ترجیح قرار دیا اور اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ جنگ اور جیو گروپس کو کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔صحافت کے عالمی دن پر پی ایف یو جے کی جانب سے منعقد کئے جانے والے سیمینار کے مقررین کا کہنا تھا کہ جیو اور جنگ محب وطن ادارے ہیں ، ان پر غداری کا الزام شرمناک ہے۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حا مد میر کو لگنے والی چھ گولیاں تمغے ہیں لیکن اس سب کے بعد بھی لوگ اگر،مگر،کی بات کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما رشید گوڈیل نے ہر دور میں صحافت کی آزادی کو ضروری قرار دیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم کا کہنا تھا کہ میڈیا آزاد ہے اور اسے آزاد ہی رہنا چاہیے،اس پر قدغنیں لگانے والے جمہوریت پر چوٹ مار رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے آخری وقت تک اخبارات اور چینل کی بندش کے خلاف آواز اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔پیپلز پارٹی نے آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جد وجہدکو سراہا۔جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم کہتے ہیں کہ صحافت کی آزادی اولین ترجیح ہے،وہ جمہوریت کو بند کرنا چاہتے ہیں،صحافت آزاد ہے اور اسے آزاد ہی رہنا چاہیء ے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ ہم آخری وقت تک کسی بھی چینل یا اخبارات کی بندش کے خلاف ہونگے،اسے درست نہیں سمجھتے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ سینئر صحافیوں نے میڈیا کی آزادی کے لئے بہت دکھ جھیلے ہیں، آج انکی کوششوں کی وجہ سے میڈیا اتنا مضبوط ہے۔آزادی صحافت کے عالمی دن پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی اور جیو نیوز لاہور کے بیورو چیف خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ وہ ادارے جو جنگ اور جیو کے خلاف ہیں،وہ پہلے اپنے معاملات دیکھ لیں۔ پی ایف یو جے کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی میڈیا ہاوٴس پر بندش لگائی گئی تو ان کی تمام جد و جہد کارکنوں کیلئے ہو گی۔ دنیا نیوز لاہور کے بیورو چیف سلمان غنی کے آزادی صحافت کو قومی اداروں کے تحفظ اور عوام کی بہتری سے مشروط کیا جبکہ اس موقع پر سینئر صحافی عبدلحمید چھاپرا نے کہا کہ آزادی صحافت انسانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جیو نیوز لاہورکے بیورو چیف خاور نعیم ہاشمی کا کہنا تھا کہ آج جو جنگ اور جیو کے خلاف زہر اگل رہے ہیں،یہ وہ ہیں جو خود قاتل ہیں،جن کے اپنے دفاتر میں ورکروں نے خود کشیاں کی ہیں۔ پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے لئے کچھ نہیں چاہئیے، لیکن ہماری ساری جدو جہد کارکنوں کیلئے ہو گی اور صرف ان کی بہتری کیلئے ہو گی۔ پاکستان میں صحافت آزاد ہے اور آزاد رہے گی، لیکن اسے مشروط کرتے ہیں قومی اداروں کے تحفظ کے ساتھ اور عوامی مسائل کے حل کے ساتھ، پریس کو بند کردینگے تو لوگوں کے بولنے کے حقوق وغیر ہ سب ختم ہوجائیں گے۔ آزادی صحافت پر ہونے والے سیمینار سے تحریک انصاف کے میاں اسلم اقبال، لاہور پریس کلب کے سابق صدر ناصر نقوی، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے نمائندے پرویز شوکت، سینئر صحافی حبیب خان غوری اور خالد چوہدری نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں صحافی مال روڈ ہر پھیل گئے اور انہوں نے شہدائے صحافت کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔