5 مئی 2014
وقت اشاعت: 9:36
جسٹس آف پیس کے ایف آئی آر درج کرانے کے حکم پر ماہرین حیران
جیو نیوز - اسلام آباد…لاہور،اسلام آباد اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جیو اور جنگ کے خلاف کئی درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد جسٹس آف پیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کے حکم پر قانونی ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جسٹس آف پیس ایسا مقدمہ درج کرانے کے مجاز نہیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جسٹس آف پیس کی حیثیت سے حکم دیا تھاکہ آئی ایس آئی پرالزام لگانے پرعامرمیر اور جیونیوز کے دیگر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے، لیکن اب یہ سارا معاملہ ہی مشکوک نظر آتا ہے۔پولیس درخواست گذار کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست سے لاعلمی ظاہر کرچکی ہے، اس سے پہلے لاہور، سندھ اوراسلام آباد ہائی کورٹ بھی ایسی کئی درخواستیں خارج کرچکی ہیں اور معاملہ پہلے ہی پیمرا میں بھیجا جاچکا ہے۔ دوسری جانب حامد میر پرحملے کی مکمل تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دیا جا چکا ہے، جو معاملے کی سماعت کر رہاہے۔ادھرقانونی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ اسلام آباد کے سیشن جج اور جسٹس آف پیس نے جو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے وہ غیرقانونی ہے۔ جسٹس آف پیس نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی درخواست ہی پولیس کے سامنے پیش نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں جسٹس آف پیس سے بھلا کیسے رجوع کیاجا سکتا ہے؟۔ معروف وکیل اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ جسٹس آف پیس کوان حالات میں اس قسم کا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا جب کہ ہائیکورٹس اس قسم کی درخواستوں کو ڈسمس کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے پورے کیریئر کے دوران انہوں نے اس قسم کے احکامات نہیں سنے۔جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ماہر قانون آصف محمود نے کہا کہ یہ احکامات جسٹس آف پیس نے جاری کیے یہ تاثر غلط ہے کہ یہ احکامات عدالت نے جاری کیے۔ جیو نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف رانا جواد نے کہا کہ جسٹس آف پیس کے پاس وہی شخص جا سکتا ہے جو پہلے پولیس کے پاس جا چکا ہو۔ ماہر قانون آصف محمود نے کہا کہ جسٹس آف پیس نے کسی قسم کی تحقیقات کے بغیر اپنے طور پر ہی فیصلہ کر لیا جو درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شہری یہ معاملہ جسٹس آف پیس کے پاس لے کر گیا وہ متاثرہ فریق بھی نہیں، متاثرہ فریق تو پہلے ہی پیمرا سے رجوع کر چکا ہے۔