5 مئی 2014
وقت اشاعت: 9:52
جنگ، جیو اورعامر میر کیخلاف مقدمہ درج کرانے آنیوالا ’بھٹہ مزدور‘نکلا
جیو نیوز - اسلام آباد…اسلام آباد میں جنگ، جیو اور سینئر صحافی عامر میر کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے آنے والا درخواست گزاربھٹہ مزدورنکلا۔ صحافیوں کے تابڑ توڑ سوالات کے بعد کھسیانا ہوگیا۔گھنٹوں چلنے والا یہ ڈرامہ تب شروع ہوا جب اسلام آباد کے مارگلہ پولیس اسٹیشن پر ایک شخص جنگ، جیو اور عامر میر کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے فرشتوں کے ہمراہ پہنچا۔جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ یہ سب کچھ کس کے اشارے پر کررہا ہے تو اس نے کہا کہ کسی ایجنسی سے اس کی وابستگی ثابت ہوجائے تو اسے گولی ماردی جائے۔یہ شخص بار بار یہ وضاحت کرتا رہا کہ وہ جو کچھ بھی کررہا ہے اپنی ذاتی حیثیت میں کررہا ہے۔اس موقع پر ایک شخص نے خود کو درخواست گزار کا وکیل قرار دیتے ہوئے ظہور الحسن کے نام سے تعارف کرایا اور کہا کہ یہ دہشت گردی کا کیس ہے۔جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ جرم کیسے بنا ہے تو گھبراہٹ کے عالم میں مختلف حوالے دینے لگا۔موقع پر موجود ایک اور وکیل نے خود کو درخواست گزار کے وکیل کا دوست ظاہر کیا۔اس کے مطابق وہ تو اپنے دوست کو ایئرپورٹ جاتے ہوئے ڈراپ کرنے آئے تھے،اس کیس سے تو تعلق نہیں مگر ان کے ساتھی جونئر وکیل ہیں اور ایک ہی بلڈنگ میں کام کرتے ہیں۔درخواست گزارکے بارے میں سینئر وکیل کا کہنا تھا کہ اس شخص سے شناسائی اس کیس کے حوالے سے ہی ہوئی ہے۔سینئر وکیل نے درخواست گزار اور اس کے وکیل کے پس منظر کے بارے میں بھی کچھ بتایا ۔اس دوران صحافیوں نے درخواست گزار سے تابڑ توڑ سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا۔پوچھا گیا کہ وہ ملک میں ہونے والے بڑے واقعات پر مقدمہ درج کرانے کیوں نہیں آیا؟۔ لاہور، اسلام آباد، سندھ اور پشاور ہائی کورٹ اس نوعیت کی درخواستوں کو پہلے ہی خارج کرچکی ہیں پھر اب اس پر اصرار کیوں؟۔ ان سوالات پر وہ شخص کھسیانا سا ہو گیا اور اس کے ساتھ آئے افراد اسے گھیرے میں لے کر تھانے کے اندر چلے گئے۔دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ وہ قانونی پہلووٴں کا جائزہ لینے کے لیے درخواست لیگل برانچ کو بھیج چکے ہیں۔