29 مئی 2014
وقت اشاعت: 10:41
ٹیم جیو کا پیمرا اور حکومت کے نام کھلا خط
جیو نیوز - ٹیم جیو نے پیمرا اور حکومت کے نام خط میں کہا ہے کہ پاکستان کے اولین ،سب سے بڑے اور سب سے مقبول میڈیا گروپ پر پابندی کے خطرات منڈلارہے ہیں ،جس سے گروپ سے وابستہ ہزاروں خاندان متاثر اور لاکھوں ناظرین جاننے کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ ٹیم جیو کی جانب سے پیمرا اور حکومت کے نام کھلے خط میں کہاکہا گیا ہے کہ پاکستان کے اولین، سب سے بڑے اور سب سے مقبول میڈیا گروپ پر پابندی کے خطرات منڈلارہے ہیں، اس طرح جنگ گروپ اور جیو نیٹ ورک سے سے وابستہ 50ہزار خاندان متاثر ہوں گے جبکہ لاکھوں ناظرین کا اطلاع حاصل کرنے کا حق چھن جائے گا۔ یہ بہت بد قسمتی کی بات ہے کہ آپ ایک میڈیا ریگولیٹر اس صورتحال سے نمٹنے، اپنی غیر جانب داری برقرار رکھنے اور قانون کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔ایک جانب تو کچھ مفاد پرستوں نے ایک شرمناک مہم شروع کی ہوئی ہے اور پیمرا اور حکومت کو ہم سے نتھی کردیا ہے، جیسے وہ ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے اور دوسری جانب یہی پیمرا ہے جو ہمیں سنے بغیر سزا دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تیس سے زائد دن سے جیو کے تمام چینل ملک کے نوے فیصد علاقے میں یا تو بند کر دیے گئے ہیں یا انہیں کسی اور جگہ ڈال دیا گیا ہے یا ان کے ساتھ گڑ بڑ کردی گئی ہے۔ ہمیں غیر قانونی طور پر بند کر کے یا ہماری ٹرانسمیشن بحال نہ کر کے آپ نے ہمیں غیر قانونی طور پر سزا دی ہے اور ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکے ہیں۔ ہم نے حکومت سے احتجاج کیا تھا کہ چونکہ پیمرا کا کوئی چیئرمین نہیں ہے پیمرا اس معاملے کی سماعت نہ کرے، حکومت نے ہماری اپیل مسترد کردی۔ ہم نے اپیل کی تھی کہ پیمرا اس مقدمے کی سماعت نہ کرے کیونکہ اس کے کئی ممبر سیاسی طور پر مقرر کیے گئے ہیں اور ان پر اثر اندا ہوا جاسکتا ہے یا پھر حکومت کے نمائندے ہیں جن پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے، مگر حکومت نے پھر ہماری اپیل مسترد کردی۔ ہم نے حکومت سے اپیل کی کہ ہمارا مقدمہ ایک غیر جانبدار عدالتی کمیشن کو بھیج دیا جائے کیونکہ وہ حکومت اور دوسرے لوگوں سے آزاد ہوں گے مگر حکومت نے ہماری یہ اپیل بھی مسترد کردی۔ ہم نے اپیل کی کہ ذرائع ابلاغ کے کچھ لوگ ہمارے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں، ہماری ایک حادثاتی وڈیو جان بوجھ کر اپنے مقاصد کے لیے 60 بار دہرا چکے ہیں۔ پیمرا نے پھر بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ یہی مواد ماضی میں اس سے پہلے کئی چینل دکھا چکے ہیں۔ پیمرا خاموش رہا۔ہم نے6 خطوط لکھے یہ بتانے کے لیے کہاں کہاں ہمیں بند کردیاگیا ہے اور کون سے کیبل آپریٹر یہ کام کر رہے ہیںَ۔ پیمرا نے ایک بھی خط کی رسید نہیں دی۔ چہ جائیکہ وہ اس غیر قانونی بندش کے خلاف کوئی کارروائی کرتی۔26 مئی 2014 کو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا کہ جیو بند کرنا غیر قانونی ہے اور اِسی طرح اس کو کسی اور نمبر پر ڈالنا یا اس کے ساتھ گڑبڑ کرنا بھی غیر قانونی ہے۔ معزز سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ان اقدامات کے لیے پیمرا اور اس کے ملازمین ذمہ دار ہوں گے اور احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اْنہیں سزا بھی دی جاسکتی ہے،اس کے باوجود 90فیصد علاقوں میں، جیو کہانی، جیو سوپر اور جیو انٹر ٹینمنٹ سمیت جیو کے چینل بند ہیں یا ان میں گڑبڑ کی گئی ہے۔آپ نے ہمارے معاملے پر غور کرنے کے لیے صرف ایک جزوی فیکٹ فائنڈنگ سماعت کی۔ ہم نے ہمارے خلاف نام نہاد پاکستان دشمن ایجنڈے کے حوالے سے، جس کا ذکر آپ نے ہمیں دیے گئے شوکاز نوٹس میں کیا ہے شہادت طلب کی مگر آپ نے ہمیں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہمیں متعلقہ مواد فراہم کیا جائے تاکہ ہم آپ کو ایک جامع جواب دے سکیں، آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ قانوناً ہمارے لائسنس کو معطل یا منسوخ کرنے سے پہلے آپ کو ہمارا معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کو بھیجناچاہئے تھا۔مگر آپ کے کچھ ارکان قانون پر عمل در آمد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔آخر میں انصاف اور معقولیت کے مفاد میں ہم چاہتے ہیں کہ یہ غیر متنازع حقیقت ریکارڈ پر لائی جائے کہ اتھارٹی کے تین ارکان، جناب اسرار عباسی، میاں شمس اور فریحہ افتخار نے اپنی جانبداری ثابت کردی، جب انہوں نے متعدد بار پریس کانفرنسوں میں اور کئی مخالف ٹی وی چینلوں پر لائیو انٹویوز میں یہ عزم دہرایا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ جیو کا لائسنس منسوخ کردیں گے۔یہ تینوں ارکان نہ صرف جانبدار ہیں بلکہ ان کا رویہ معاندانہ ہے،ان سب نے اس معاملے پر اتھارٹی کے اجلاس سے پہلے ہی اپنی رائے بنالی تھی اس لیے وہ اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ مزید اس موضوع پر ہونے والے بحث مباحثے میں شریک ہوں، ووٹ ڈالیں اور اس معاملے پر کوئی فیصلہ کریں۔ بدقسمتی سے آپ کے رویے سے ہماری بات درست ثابت ہوئی، ایک بار نہیں کئی بار۔ صرف ایک آزاد جوڈیشل کمیشن ہی ہمیں انصاف فراہم کرسکتا ہے۔