تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
31 مئی 2014
وقت اشاعت: 2:32

جنگ،جیو پر پابندی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

جیو نیوز - اسلام آباد…ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جیو اور جنگ کے خلاف پابندیاں اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہیں، حکومت فوری طور پر مداخلت کرکے جیو کی نشریات بحال کرائے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ایشیا پیسیفیک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ گرفتھس Griffiths نے ایک کھلے خط میں کہا کہ سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد جیو ٹی وی کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کردی گئی، جیو ٹی وی جنگ میڈیا گروپ کا حصہ ہے، گروپ کے کئی صحافیوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ انہیں روزانہ دھمکیاں ملتی ہیں اور ہراساں کیا جاتا ہے، بہت سے ملازمین دفاتر میں داخل ہونے کی ہمت نہیں کرپاتے یا حملے کے خوف سے جیو ٹی وی یا جنگ میڈیا گروپ سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جنگ میڈیا گروپ کے ملازمین کو ہراساں کرنے کی ناشائستہ ، قابل ملامت منظم مہم کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔یہ بات خاص طور پر مایوس کن ہے کہ مخالف چینلز اور بعض سیاسی جماعتیں حامد میر پر حملے کے حالات و واقعات کی بھرپور اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے بجائے جنگ میڈیا گروپ پر حملوں میں شریک ہوگئیں۔ بعض حکومتی عہدے داروں نے بھی جیو ٹی وی کو مبینہ "ریاست مخالف "قرار دیتے اور توہین آمیز مواد نشر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی نشریات بند کرنے کی کوشش کی۔ ڈیوڈ گرفتھس کا کہنا ہے کہ میڈیا سے متعلق سرکاری محکموں نے بظاہر طاقت ور حلقوں کے دباؤ پر جنگ میڈیا گروپ کے اخبارات کی ترسیل اور ٹی وی چینلز کی نشریات میں 80 فیصد تک خلل ڈالا۔ جیو ٹی وی کی نشریات بند کرنے کی کوششوں کے مقاصد واضح طور پر سیاسی ہیں اور پاکستان میں آزادی اظہار پر سنگین حملہ ہیں۔ ڈیوڈ گرفتھس کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے مصیبتوں کے شکار پاکستانی صحافیوں کو حملوں سے تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہے جس کی فراہمی نواز شریف حکومت کی ذمہ داری ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.