4 جون 2014
وقت اشاعت: 5:4
سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا پیمرا کا فرض ہے، جسٹس اعجازالاحسن
جیو نیوز - لاہور…لاہورہائیکورٹ میں جیو نیٹ ورک کی درخواست کی سماعت میں جسٹس اعجازالاحسن نے قراردیاہے کہ پیمرا ریگولیٹری باڈی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا اس کا فرض ہے،اگر کیبل آپریٹرز پیمرا کاحکم نہیں مانتے تو پیمرا ان کے لائسنس منسوخ کر سکتی ہے۔جیو نیٹ ورک نے کیبل پر جیو کی نشریات بحال کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے کو چیلنج کر رکھا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے قراردیاکہ جب پیمرا عدالتی حکم پر عمل کرے گی تو کیبل آپریٹرز بھی اس کے پابند ہوں گے،کیبل آپریٹرز بڑے ہوں یا چھوٹے،پیمرا کے قواعد و ضوابط کے پابند ہیں،اگروہ پیمرا کاحکم نہیں مانتے تو پیمرا ان کے لائسنس منسوخ کر سکتی ہے،جیو کے وکیل نے موٴقف اختیار کیاکہ سپریم کورٹ نے پیمرا کوحکم دیاکہ جیو کی نشریات بحال کرنے کے حوالے سے2012ء کے حکم پر عمل درآمد کرے،لیکن پیمرا سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہی،ہزاروں ملازمین کا مستقبل داوٴ پر لگا ہے،روزانہ3کروڑ روپے سے زیادہ کانقصان ہو رہا ہے۔عدالت نے جیو کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں،اس پر وکیل کاکہناتھاکہ آئین کے تحت لاہور ہائیکورٹ بھی عملدرآمد کاحکم جاری کر سکتی ہے۔،عدالت نے قرار دیاکہ پیمرا کے دفاتر اسلام آباد میں ہیں،آپ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر سکتے ہیں،عدالت نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ اگر پیمرا چاہے تو کیبل آپریٹرز کیسے خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔جیو کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت مزید دلائل کے لئے مہلت دے، اس پرعدالت نے کارروائی آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔