6 جون 2014
وقت اشاعت: 16:16
کسی نے جیو کو انصاف فراہم نہیں کیا ، ماہرین قانون، تجزیہ کار
جیو نیوز - کراچی... مختلف شعبوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے پیمرامیں جیو کاموقف نہ سنے جانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی نے جیو کو انصاف فراہم نہیں کیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان فورسز کا ساتھ دیا ، جو قانون و انصاف سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرف کے دور میں جیو 90 روز بند رہا، موجودہ دور میں بندش کی مدت 60 روز ہے اور یہ بھی کسی طرح آمرانہ اقدام سے کم نہیں ۔ ماہرین قانون ، سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیو کو پیمرا سے تحریری طور پر کچھ موصول نہیں ہوا ۔ اطلاعات ہیں کہ جیو کو پندرہ دن کے لیے بند کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 45 روز کے دوران جیو کا موقف نہیں سنا گیا اور اس کے تمام چینلز بند ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ سپریم کورٹ نے جیو کے چینلز کھولنے کا حکم دیا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ یہاں تک کہ جیو کہانی ، جیو انٹرٹینمنٹ ، جیو تیز اور جیو سوپر بھی بند ہیں ۔ جنگ گروپ کے اخبارات لے جانے والی گاڑیاں جلادی گئیں ۔ رپورٹرز اور ایڈیٹروں کو مارا پیٹا گیا اور ہراساں کیا گیا ۔ کسی نے جیو کو انصاف فراہم نہیں کیا ۔پہلے ہی دو ارب روپے کے نقصان نے جیو کو کمزور کیا ہے ۔ گورنمنٹ ، پارلیمنٹ ، سینیٹ اور یہاں تک کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ جیو کو بند نہیں ہونا چاہیے ۔ پوری سول سوسائٹی نے بھی یہی بات کہی لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان فورسز کا ساتھ دیا جو قانون و انصاف سے زیادہ طاقت ور ہیں ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیو پہلے ہی 45 روز سے بند ہے ۔ اب پندرہ روز مزید بند رہے گا ۔ اس طرح بندش کی مجموعی مدت 60 روز ہوجاتی ہے ۔ ماضی میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ایمرجنسی پلس کے دوران جیو نیوز 90 روز بند رہا تھا ۔ اس طرح موجودہ صورت حال کو بھی آمرانہ اقدام سے کم قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ پیمرا کا کہنا ہے کہ ایکشن قانونی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جیو کو غیر قانونی طریقوں سے پہنچائے گئے دو ارب روپے کے نقصان کی تلافی کون کرے گا ۔؟ جیو اپنے نقصان کے ازالے کے لیے کس کے پاس جائے؟۔ لیکن چونکہ موجودہ حالات میں ہم نہتے ہیں اس لیے ہمیں تباہ کیا جارہا ہے ۔