10 جون 2014
وقت اشاعت: 1:57
دہشت گرد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کررہے ہیں،حامد موسوی
جیو نیوز - اسلام آباد....... تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حا مد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے حکومتی نیک نیتی کا دہشت گرد حملوں سے جواب ریاست کیلئے کھلا چیلنج ہے ،فتح جنگ میں فوجی افسران پر حملہ ،تفتان میں زائرین کے خون سے ہولی اور کراچی ائر پورٹ پر حملے کے پے درپے واقعات نے ثابت کر دیا دہشت گرد جہاں چاہیں جس جگہ چاہیں نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ استعمار مسلمانوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہے پاکستان شام عراق سمیت دنیا بھر کوئی شیعہ سنی لڑائی نہیں پاکستانی عوام مسالک کانام استعمال کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی ضمانتیں ضبط کرکے بارہا ان سے بیزاری کا اعلان کر چکے ہیں میڈیا حکومت اپوزیشن دہشت گرد گروپوں کو مسالک کا نمائندہ بنا کر پیش کرنے سے باز رہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا کہ مہران بیس کے بعد کراچی ائر پورٹ پر دہشت گردی نے سیکیورٹی نقائص کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے سانحہ کراچی ائر پورٹ پر فوری انکوائری کمیشن بنایاجائے کیونکہ سازش ہمیشہ اندر سے کی جاتی ہے لہذا لازم نہیں الزام ہے کہ ان سانحات کی مکمل چھان بین کی جائے ۔انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردآگ و خون کا کھیل کھیل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرہے ہیں تو دوسری جانب چین جیسے دیرینہ دوستوں سے دور کر کے عالمی سطح پر تنہا کررہے ہیں حکومت نے ازحد چاہا کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرلئے جائیں لیکن دہشت گردوں نے فرمان معصوم ’’جس پر نیکی کرو اس کے شر سے بچو‘‘کے مصداق پاکستان کی پیٹھ پر ایک بار پھر خنجر گھونپنے کی کوشش کی ہے ۔لہذا اس نازک گھڑی پر تمام محب دین ووطن جماعتوں کو باہمی اختلافات مٹا کر پاکستان کے تحفظ کے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہو نا ہوگااور اداروں کی لڑائی کے تاثر کو ختم کرنا ہوگا۔کراچی ائر پورٹ اور تفتان زائرین پر دہشت گرد حملوں سے دنیا بھر میں پا کستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے،حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فوری اقدامات کرےاور دہشتگردوں کو گرفت میں لائے ،دہشت گردی میں ملوث بیرونی ممالک کو بے نقاب کرکے اقوام متحدہ اور عالمی فورموں پر اٹھایا جائے ۔