14 جون 2014
وقت اشاعت: 20:39
ہینڈری مسیح سماجی خدمات میں بھی سرگرم تھے
جیو نیوز - کوئٹہ.......بلوچستان اسمبلی کے اقلیتی رکن ہینڈری مسیح کوئٹہ میں قتل کردئیے گئے،حکمران جماعت نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہینڈری پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے،سماجی خدمات کا پس منظر رکھنےوالے ہینڈری مسیحی برادری کےحقوق کی موثر آواز تھے۔ہینڈری مسیح 2013کےعام انتخابات میں نیشنل پارٹی سے اقلیتی کوٹے پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے،ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع مستونگ سے تھا جہاں سے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا، زمانہ طالب علمی میں پہلے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنازئزیشن کےرکن اور بعد میں تعلیم کے حصول کے بعد نیشنل پارٹی سے وابستہ ہوگئے،وہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن بھی تھے اور پارٹی میں نظریاتی کارکن کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، ہینڈری مسیح خود کو بلوچ کہلوانے پر فخر محسوس کرتے تھے ،اسی لئے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ بلوچ کا اضافہ بھی کیا،یعنی ہینڈری مسیح بلوچ،سیاسی وابستگی کےعلاوہ ہینڈری کا ایک حوالہ سماجی کارکن کا بھی تھا،اس سلسلے میں انھوں نے اپنی سماجی تنظیم بھی بنائی ہوئی جو ساوتھ ایشیاء پارٹنرشپ ، سیپ پاکستان اور ایس پی او کےساتھ معاشرے میں بہتری اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کررہی تھی،مسیحی برادری کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بھی وہ بہت سرگرم رہے،ان کے قتل سے مسیحی برادری یقیناً ایک موثر آواز سے محروم ہوگئی ہے۔