16 جون 2014
وقت اشاعت: 0:12
شہروں کو نظرانداز کرکے دیہیعلاقوں کو نوازا جارہا ہے، سلیم حیدر
جیو نیوز - کراچی.......مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ سندھ کی شہری آبادیوں میں تعمیروترقی کی اسکیموں کو نظرانداز کرکے دیہی آبادیوں میں ڈویلپمنٹ فنڈز دیئے جانا صوبائی حکومت کی متعصبانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس کراچی اور حیدرآباد کے تاجر اور کاروباری طبقہ ادا کرتا ہے لیکن انہیں بجٹ میں ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ وہ تاجروں کے ایک وفد سےملاقات کے موقع پر بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر جنرل سیکریٹری بہارالدین شیخ، نائب صدر راشد قریشی، اعجاز شیخ اور دیگر بھی موجو دتھے۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہاکہ کراچی کے تاجر اور شہری ملک کا 70فیصد ریونیو ادا کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس انہیں سندھ میں نہ تو تحفظ ہے اور نہ ہی ان کی جان ومال محفوظ ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں اور تاجروں کو کھلے عام بھتے کی پرچیاں دی جارہی ہیں، ان سے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے کئی مرتبہ احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے کو تیا رنہیں جس کے باعث کراچی اور حیدرآباد کے صنعتکاروں و تاجر بیرون ممالک منتقل ہورہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے سابقہ اور موجودہ دور حکومت میںکراچی، حیدرآباد، میرپورخاص سمیت سندھ کے کسی شہری علاقے میں کوئی ایک بھی صنعت نہیں لگی بلکہ جو صنعت ، کارخانے او رتجارتی مراکز چل رہے تھے وہ بھی بھتہ خوری اور دہشت گردی کے باعث بند کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں نے اپنے خون و پسینے سے شہری علاقوں کو گل وگلزار بنایا ہے لیکن ایک منصوبے کے تحت سندھ کے ترقیاتی فنڈز اندرون سندھ کے دیہی علاقوں میں منتقل کئے گئے ہیں جہاں صرف لوٹ مار اور کرپشن کے علاوہ ان فنڈز کا کوئی مصرف نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف احساس محرومی بلکہ عدم استحکام اور غیریقینی کی صورتحال ہے جس کا ازالہ کیا جانا بہت ضروری ہے۔