16 جون 2014
وقت اشاعت: 19:52
دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،وزیراعظم
جیو نیوز - اسلام آباد........وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، وطن عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، ضرب عضب کےنام سےشروع ہونے والا آپریشن حتمی مقصد کے حصول تک جاری رہے گا، اس ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کےخلاف آپریشن شروع کردیا گیا ہے، ضرب عضب کے نام سے شروع ہونے والا آپریشن حتمی مقصد کے حصول تک جاری رہے گا،29جنوری کو اعلان کیا تھا کہ امن کو ایک اور موقع دینے کیلئے حکومت مذاکرات شروع کر رہی ہے، مذاکرات کے لیے ٹیم کا اعلان بھی کیا تھا، اس ایوان نے مذاکرات کے فیصلے کی کھلے دل سے توثیق کی، عوام گواہ ہیں کہ پُرخلوص پیشکش کو اس جذبے کے ساتھ نہیں لیا گیا، حکومت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل جاری رکھا، ایک طرف مذاکرات میں مصروف تھے اور دوسری طرف ہمارے بچوں، خواتین کو خون میں نہلایا جا رہا تھا، اسلام آباد کچہری سے کراچی ایئرپورٹ تک آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا تھا، افواج اور ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے باوجود امن کو پہلی ترجیح دی، پاکستان کو امن کی سرزمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے، یقین ہے کہ یہ آپریشن پاکستان میں امن اور سلامتی کے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اپنے تمام خوابوں کو حتمی شکل دیں گے جو پاکستان کے عوام کی ترقی کیلئے دیکھے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی اورفوجی قیادت میں مشاورت کاعمل جاری رہا اورتمام فیصلے باہمی ہم آہنگی سے کیے گئے، دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور بالخصوص کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا، ہماری عبادت گاہیں، درس گاہیں فوجی تنصیبات، ہوائی اڈے بازار اور گھر کچھ محفوظ نہیں، ہمارے میدان باہر سے آنے والے کھلاڑیوں کے منتظرہیں، ہمارےسیاحتی مراکز عالمی سیاحوں کے منتظر ہیں، اس دہشت گردی نے پاکستان کے وقار اور ساکھ کو بری طرح مجروح کیا، کل تک مذاکرات اور آپریشن سے متعلق مختلف آرا ہو سکتی تھیں، اب یہ بند ہو جانا چاہیے، سیاسی قیادت کو حکومت اور مسلح افواج کی پشت پر کھڑا ہو جانا چاہیے، سیاسی قیادت اتحاد اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ متحد رہے گی، علمائے کرام اہل وطن کی رہنمائی کریں تاکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے، پاکستانی قوم ان تمام چیلنجز سے نمٹنےکی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، زندہ قومیں اپنی تقدیریں بدلتی ہیں، اپنی تقدیر بدل کر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، ملک ترقی کی منزلوں پر گامزن ہوگا۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ امن کی راہ اختیارکرنےوالوں کیلئے خصوصی سینٹرزقائم کردیے گئے ہیں، دہشت گردی چھوڑ کر امن کی راہِ اختیار کرنے والوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، عبدالقادر بلوچ ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کریں گے، عبدالقادر بلوچ وفاق اورصوبائی حکومت کی کوششوں کو مربوط بنائیں گے، امیدہےعبدالقادربلوچ کوخیبرپختونخواحکومت کاتعاون حاصل رہےگا، پاکستان کے محب وطن قبائل بھی آپریشن میں اپنا کردار ادا کریں، وقت آگیا ہے کہ قبائل کی بستیوں کو آگ اور خون سے پاک کر دیا جائے، پوری پاکستانی فوج مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستانی قوم کی ہر بیٹی، ماں اور نوجوانوں کی دعائیں مسلح افواج کے ساتھ ہیں، پختہ عزم کے ساتھ ایساپاکستان تعمیرکرناہےجہاں امن وسلامتی اورترقی کاراج ہو، دنیا ہمیں قتل و غارت گردی نہیں بلکہ ترقی کرنے والی قوم کی طرح دیکھے۔ بعد میں وزیراعظم نوازشریف کا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی قیادت مثبت کردار ادا کرتی رہی ہے، امید ہے کہ آگے بھی کرے گی، عمران خان کے بیان کو خوش آمدید کہتا ہوں،امید ہے تمام سیاسی جماعتوں کا کردار پہلے کی طرح مثبت ہوگا، جو کچھ ایوان میں کہا وہی حکومت کا بیان ہے، اس سے متعلق مزید کچھ نہ ہی کہوں تو اچھا ہے۔