تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
4 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 13:38

چارسدہ :اسکول دھماکے کی شہیدخاتون ٹیچر روزے سے تھیں

جیو نیوز - چارسدہ .........چارسدہ کی تحصیل شب قدر میں نجی ا سکول پر دستی بموں کے حملے میں شہید ہونے والی ہیڈ مسٹریس شہادت کے وقت روزے سے تھیں۔شہید مس ہنی نے اپنی ساری زندگئی علم کی روشنی پھیلانے کیلئے وقف کی تھی،علم سے محبت اورجہالت دورکرنے کا عزم دل میں رکھنے والی بہادر خاتون مس ہنی 2012 میں پشاوریونیورسٹی سے ایم ایس سی بوٹنی کے امتحان میں سیکنڈپوزیشن حاصل کرنے کے بعد اپنے آبائی علاقے تحصیل شب قدر کے ایک نجی اسکول میں ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر فائزہوئیں۔ شب قدر میں علم دشمن عناصر کے حملوں اوردھمکیوں کے بعد بچیوں کی تعلیم کوئی آسان کام نہیں ۔ایسے پرخطرماحول میں وہ ہرروزطویل سفر طے کرکے گھر سے اسکول پہنچتیں۔ گھروالوں کا کہنا ہے شہادت کے وقت وہ روزے سے تھیں۔ سرکاری کالج کی لیکچرار بننے کی خواہش دل میں لیے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوئیں۔ایم ایس پشاور یونیورسٹی سے کیا۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ وہلیکچرار بنیں اور اس کیلئے انہوں نے پبلک سروس کمیشن میں ٹیسٹ بھی پاس کیا تھا۔ دھماکے کے دن بھی وہ درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہی تھیں کہ اسکول پر یکے بعد دیگرے دودستی بموں سے حملہ کیاگیا اوریوں علم کی پیاس رکھنے والی بہادر خاتون کی پیاس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بجھادی گئی۔ بہت ہی شریف خاتون تھیی چونکہ اس کالج کی اسٹوڈنٹ رہ چکی تھیں تو اس کو کالج، کالج کے اسٹاف سے بہت محبت تھی، پیار تھا، لگن تھی کبھی ان کو کسی سے کوئی شکایت نہیں تھی، بہت کم گو تھیں۔ دھماکے کے بعد اسکول تو کھل گیا لیکن بچوں میں ڈر اور خوف کے سائے اب بھی نظر آتے ہیں۔ ضلع چارسدہ میں سال 2008کے بعد سے اب تک 30 سے زائد نجی و سرکاری اسکول دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سراج محمد کے مطابق اب تک6 اسکولوں کو بحال کیا جا چکا ہے۔شہید ہیڈ مسٹریس ہنی کو آہوں اورسسکیوں میں سپردخاک کردیاگیاہے لیکن ان کے خواب اب بھی زندہ ہیں۔وہ بچیوں کو پڑھالکھا کر عملی زندگی میں کامیاب بناناچاہتی تھیں۔فخر پاکستان بناناچاہتی تھیں ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.