26 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 3:43
نئے صوبوں کا قیام نہ غیر شرعی، نہ نظریہ پاکستان و آئین کیخلاف ہے،سراج الحق
جیو نیوز - لاہور...........امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام نہ تو غیر شرعی ہے نہ ہی نظریہ پاکستان اور آئین کیخلاف ہے، جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور بننے چاہئیں مگر نفرت کی بنیاد پر نہیں، دہشت گردی کے خاتمے، اسلامی اور خوشحال پاکستان کے حصول کیلئے پوری قوم یکجا ہو چکی ہے تمام سیاسی ودینی جماعتوں کی کی قیادت نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھر پور مینڈیٹ دیا ہے، اب حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھا کر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرے، غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار فرد ہویا ادارہ اس کو آئین وقانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے ، دہشت گردی پر دینی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرانا سیکو لرلابی اور استعماری قوتوں کے ایجنٹوں کا طے شدہ ایجنڈا ہے، قاضی حسین احمد ، مولانا فضل الرحمن سمیت سب سے زیادہ دینی جماعتوں کے قائدین پر حملے ہوئے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ملتان میڈیا سینٹر میں ایڈیٹرز، کالم نگاروں اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکر ٹری اطلاعات امیر العظیم، صوبائی نائب امیر چوہدری عزیر لطیف، صوبائی ڈپٹی سیکر ٹری جنرل رائو ظفر اقبال، ضلعی امیر میاں آصف محمود اخوانی ، میڈیا ایڈوائزر کنور محمد صدیق بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ سراج الحق نے کہاکہ سانحہ پشاور سے ہم نے سبق حاصل کر کے اپنی آئندہ نسلوں کو تحفظ دینے کی منصوبہ بندی نہ کی تو ایسے حالات کا تسلسل نہیں رک سکے گا، حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے موقع پر 33ممالک سے اسلامی تحریکوں کے55 قائدین نے پر امن اور جمہوری طریقے سے اپنی دعوت کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا حکومت اور اداروں کا کام ہے ، سیاسی فیصلوں کی بجائے دانش مندی کا مظاہرہ کیا تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کی بات کرنا حکومت کا ساتھ دینا نہیں حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی سیاسی جماعتیں فیوڈل طبقے کی نمائندہ ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی عام آدمی کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اصولوں پر سود ے بازی نہیں کرسکتے، نہ ہی اسٹیٹس کو کے حامل لوگوں کو جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسلامی تشخص اور اسلام کو بدنام کرنا استعماری قوتوں کا پہلا ایجنڈا ہے، پاکستان میں مسلح جدوجہد کی گنجائش نہیں، مسلح جدوجہد دین اور پاکستان کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں تین سو سے زائد علماء کرام نے فتویٰ دیا ہے کہ دہشت گردی سے دینی مدارس کا کوئی تعلق نہیں، مدارس کو بدنام کرنا دشمن کا ایجنڈا ہے، تخریب کاری میں جو بھی ملوث ہو اُس کیخلاف کاروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اس نے1965ء اور 1971ء میں ہمیں دھوکا دیا،1971ء میں بحری بیڑہ نہ آیا، بیڑہ غرق ضرور ہوگیا، استعماری قوتیں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں، پاکستان کو افغانستان کی بجائے پاکستان پر توجہ دینی چاہئے۔ دریں اثنا اسلامی جمعیت طلبہ کے68واں یوم تاسیس کے موقع پر ’’دارالسلام ‘‘ میں اسلامی جمعیت طلبہ ملتان کے زیراہتمام ایک تقریب میں بھی سابق ناظم اعلیٰ و امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے خصوصی شرکت کی اور سالگرہ کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جمعیت اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، جمعیت نے ہر شعبہ زندگی کیلئے دین دار اور امانت دار قیادت تیار کی،اس ملک کے نوجوان اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے لاکھوں نوجوانوں کی ذہنی اور فکری تر بیت کی ہے۔ جماعت اسلامی اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔