تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
31 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 19:10

حالتِ جنگ میں ہیں، فوجی عدالتیں بنیں گی:نواز شریف

جیو نیوز - اسلام آباد........وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، اپنے معاشرے کو جنگل نہیں بنایا جاسکتا، بچوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لینا ہمارے اوپر واجب ہے، یقین ہے پارلیمنٹ سے خصوصی عدالتوں کی منظوری حاصل کر لیں گے، پاکستان میں کسی مسلح جتھے کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کالعدم تنظیمیں خود کو کالعدم ہی سمجھیں، اگر صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچوں کہ میرا بھی ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ ہو جائے اور ڈر کر بچوں کو بھول جاؤں تو یہ درست نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد 24 دسمبر کو عسکری اور قومی سیاسی قیادت نے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کی منظوری دی، معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے قومی قیادت نے اتفاق کیا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آگے بڑھا جائے۔ غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیا یہ غیر معمولی نہیں کہ پھول جیسے معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ ان کا خون تقاضا کرتا ہے، ہمارے فوجی جوانوں کے سر کاٹ کر فٹ بال کھیلا گیا، کیا یہ حالات معمول کے ہیں اور یہ معمول کے اقدامات کا تقاضہ کرتے ہیں؟ وزیر اعظم نے کہا کہ کیا یہ غیر معمولی نہیں کہ محب وطن اقلیتیں جنونی دہشت گردوں کا نشانہ بننے لگیں، کیا یہ غیر معمولی نہیں کہ دہشت گرد پوری قوم کو یرغمال بنالیں، ہم یہ سب کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ عوام نے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہر شخص کو ذمےداری دی ہے، قومی قیادت متفق ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو پروان نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کی منظوری کے بعد ہر نکتے کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے، بیشتر کمیٹیز کی رپورٹس مل گئی ہیں جس پر عمل درآمد شروع کردیا ہے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فوری انصاف کے نظام پر کام کیا جارہا ہے، ملکی قیادت نے متفقہ طور پر ایسی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی جس کے سربراہ فوجی ہوں، ان عدالتوں میں صرف دہشت گردی کے مقدمات چلیں گے، یقین ہے کہ پارلیمنٹ سے ان عدالتوں کی منظوری حاصل کرلیں گے، ان عدالتوں کے لیے وقت کا تعین بھی متفقہ طور پر کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی مسلح جتھے کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کالعدم تنظیمیں خود کو کالعدم سمجھیں، انہیں کسی شکل میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےاقدامات کا فیصلہ قومی قیادت جمہوریت میں رہتے ہوئے کررہی ہے، ہم آئین اور قانون سے انحراف نہیں کرسکتے۔ اعتزاز احسن کے ساتھ ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر عدلیہ بحالی کے لیے جدوجہد کی تھی، تمام اقدامات آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے معاشرے کو جنگل نہیں بنایا جاسکتا، قوم کی پوری توجہ دہشت گردی کےخاتمے کے لیے مرکوز رہنی چاہیئے، ہماری منزل دور نہیں، غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کی تائید ہمارے ساتھ ہے، دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ ا

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.