15 اپریل 2013
وقت اشاعت: 6:22
مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت
جیو نیوز - اسلام آباد…سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 31 جولائی 2009 کا فیصلہ آئے 4 سال گزر گئے ،ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس دوران فیڈریشن نے کیا کیا ،ہم نے اٹارنی جنرل کو نہیں وفاق کو ہی نوٹس دینا ہے ،وفاق کسی کو بھی پیش ہونے کا کہہ سکتا ہے ،ہم اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا دعوت نامہ نہیں بھجوا سکتے۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزارکے وکیل اے کے ڈوگر نے ایڈووکیٹ آن رکارڈ تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، اے کے ڈوگر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ آن رکارڈ نے درخواست گزار کی ہدایت کے بغیر درخواست واپس لینے کا کہا۔سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کردیا گیا۔