15 اپریل 2013
وقت اشاعت: 18:4
امن و امان کی صورتحال :ایم کیو ایم کا سینیٹ سے واک آوٴٹ
جیو نیوز - اسلام آباد … ایم کیو ایم نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے خلاف سینیٹ سے واک آوٴٹ کیا، طاہر مشہدی کا کہنا ہے کہ رینجرز نے کراچی میں امن و امان کا ستیا ناس کردیا، ہمارے لوگ مارے جارہے ہیں، رینجرز ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے ما ر رہی ہے۔ سینیٹ میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر طاہر مشہدی نے تحریک التواء پیش کی، تاہم نگراں وزیر داخلہ کے ایوان میں موجود نہ ہونے پر معاملہ موٴخر کیا گیا جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آوٴٹ کرگئے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم کے رکن طاہر مشہدی نے کہا کہ ہمارے لوگ مارے جارہے ہیں، رینجرز ہمارے دفاترپر چھاپے مار رہی ہے، ہمیں گھروں میں بٹھا دیا گیا ہے، طالبان نے ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلزپارٹی کو دھمکیاں دیں، ہمارے لیڈر باہر نہیں نکل سکتے۔ طاہر مشہدی نے کہا کہ انہیں بھی زندہ رہنے کا حق دیں، نگراں حکومت نظر نہیں آتی، کیا زبردست جانچ پڑتال ہوئی کہ ایک بھی ٹیکس چور یا نادہندہ کو پکڑا نہیں گیا۔ طاہر مشہدی نے حیدر آباد سے ایم کیو ایم کے امیدوار فخرالاسلام کے قتل کے خلاف سینیٹ میں تحریک التواء بھی جمع کرائی جس میں کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے روزانہ قتل کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ تحریک التواء میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم کو ہراساں کیا جارہا ہے تاکہ وہ آزادانہ انتخابی مہم نہ چلاسکے، تحریک التوا میں کہا گیا کہ کراچی میں رینجرز کے غیرجمہوری اور نامناسب رویئے کی صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے۔ دہشت گردوں اور طالبان کے بجائے کراچی میں غریب اور بے گناہ لوگوں کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے، ایم کیو ایم کے دفاترپر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ان کے امیدواروں کو سیاسی سرگرمیوں سے روکا جارہا ہے، تحریک التواء میں کہا گیا کہ تحریک طالبان نے ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلزپارٹی پر حملوں کی دھمکی دی اور ذمہ داری قبول کی، تحریک التوا میں اے این پی کے رہنما مکرم شاہ کی شہادت کی بھی مذمت کی گئی۔