15 اپریل 2013
وقت اشاعت: 20:4
سینیٹ اجلاس: حکومت اور اپوزیشن الیکشن کمیشن کیخلاف متحد، شدید تنقید
جیو نیوز - اسلام آباد … سینیٹ کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان الیکشن کمیشن کے خلاف متحد ہو گئے اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، سینیٹرز کا کہنا ہے کہ الیکشن کے انعقاد کے عمل کی نگرانی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔نگراں وفاقی وزیر قانون و انصاف احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ ارکان کے تحفظات کو الیکشن کمیشن اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔ چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پارلیمنٹ کو الیکشن کے انعقاد کی نگرانی کا پورا اختیار ہے جس سے اسے کوئی نہیں روک سکتا، ضمنی انتخاب میں خود الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا کہ وہ ووٹرز کو ٹرانسپورٹ اور پرچی دینے میں ناکام رہا ہے، کاغذات نامزدگی میں پوچھے جانے والے سوالات سیکیورٹی رسک ہیں، کاغذات نامزدگی پر اعتراض کروں گا تو الیکشن تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی اسحاق ڈار کی ہاں میں ہاں ملاتے کہا کہ جس الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ نے با اختیار بنایا آج وہ اسی پارلیمنٹ کے اختیارات پر قدغن لگا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے غلطی سے کہا کہ الیکشن 11 نومبر کو ہوجائیں گے تاہم اس غلطی کی نہ انہوں نے تصیح کی نہ کسی اور نے نشاندہی کی۔ اے این پی کے حاجی عدیل اور زاہد خان نے بھی الیکشن کمیشن کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ایک بھی کارکن مارا گیا تو وہ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ کوئی سیاسی جماعت الیکشن کا بائیکاٹ کرے گی، ایسا ہوا تو ملک نہیں چل سکے گا۔ جے یو آئی ف کے عبد الغفور حیدری نے کہا کہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے پر پابندی لگانا آئین کی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن کے ارکان آئین سے جاہل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرانے والی قوتوں کے ہاتھوں آلہ کار بن رہا ہے، جس حلقے میں بھی امیدوار نشانہ بنا وہاں انتخاب نہیں ہوسکتا۔ سعید غنی نے کہا کہ پرویز مشرف کو سزا ملنی چاہئے، آئین میں لکھا ہے کہ جو بھی آئین کی خلاف ورزی کرے اس پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے، سپریم کورٹ آزاد ادارے الیکشن کمیشن کو ڈکٹیٹ کرتی ہے، کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں۔ اجلاس میں طاہرمشہدی نے دوہری شہریت کے حامل شخص کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے سے متعلق دستور ترمیمی بل 2013 سینیٹ میں پیش کیا جسے مزید کارروائی کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔