20 نومبر 2013
وقت اشاعت: 7:58
امریکا فورسز کی غلطیوں پر معافی مانگے ، افغانستان کا مطالبہ
جیو نیوز - کابل…امریکا کو 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں ٹھہرنا ہے تو اسے ماضی میں اپنی فورسز کی غلطیوں پر افغان عوام سے معافی مانگنا ہوگی ، افغان حکومت نے نئے معاہدے کیلئے امریکی حکومت کے سامنے یہ شرط رکھ دی ہے ، تاہم امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی ڈرافٹ زیر غور نہیں۔ 2014ئکے بعد بھی افغانستان میں امریکی فورسز کے رکنے کیلئے افغان اور امریکی حکومت کے درمیان معاہدے پرا تفاق ہوگیا ہے اور اس معاہدے کا ڈرافٹ بھی تیار کرلیا گیا ہے، لیکن یہ دعویٰ افغانستان کی طرف سے ہے، امریکا کا موٴقف کچھ اور ہے ۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کاکہنا ہے کہ معافی مانگنا امریکا میں سیاسی تنازعات کا سبب بنے گا۔ افغان صدارتی ترجمان ایمل فیضی کے مطابق امریکا کا معافی مانگنا مذاکرات کا حصہ اور جنگ کی وجہ سے افغان عوام کی مشکلات کا اعتراف کرنا ہوگا اور ساتھ ہی یہ اس بات کی ضمانت بھی ہوگا کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، تاہم امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا کہناہے کہ ایسا کوئی خط نہ تو تیار ہوا ہے، نہ ہی انہیں پہنچایا گیا ہے اور امریکا کو افغانستان سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔سوسان رائس کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا نے افغانستان کو ایمرجنسی کی حالت سے نکلنے، القاعدہ سے مقابلہ کرنے اور جمہوری عمل کو مضبوط کرنے میں بہت مدد کی ہے اور قربانی دی ہے ۔امریکا نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ معافی کے حوالے سے کوئی حتمی ڈیل ہوچکی ہے اور اس بارے میں جان کیری اور حامد کرزئی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی خبروں کو بھی مسترد کیا ہے۔