15 دسمبر 2013
وقت اشاعت: 6:42
پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوچکی، امریکی ماہرین
جیو نیوز - نیویارک …امریکی ماہرین برائے انسداد دہشت گردی نے انکشاف کیا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوچکی ہے،لیکن شام، صومالیہ، یمن ، لیبیا اور مغربی افریقہ میں زور پکڑ رہی ہے اور اب بھی امریکا اور یورپی ممالک کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈرون حملوں نے تو القاعدہ کو کمزور کیا لیکن شام کی خانہ جنگی میں انتہاپسندوں کی بڑی تعداد القاعدہ میں شامل ہوئی، جس نے اس نیٹ ورک کو پھر سے پیروں پر کھڑا کردیا۔ماہرین کے مطابق شام، صومالیہ، یمن اور لیبیا کے مسلح گروپ بھی تیزی سے القاعدہ میں شامل ہورہے ہیں۔ امریکی میرین کور کے سابق جنرل جمیز میٹس کا کہنا ہے کہ امریکا اور اتحادیوں کی کارروائیوں کے باعث القاعدہ کی قیادت تو بری طرح متاثر ہوئی لیکن محفوظ پناہ گاہوں میں تیزی سے اضافے نے القاعدہ کا نیٹ ورک اور بھی پھیلادیا۔ایک اور امریکی ماہر ڈیوڈ کل کلین کے مطابق شام میں القاعدہ سے الحاق کرنے والے گوریلا جنگجووٴں کی تعداد45 ہزار کے لگ بھگ ہے،جو افغانستان میں لڑنے والے طالبان کے مقابلے میں دگنی ہے۔