28 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 10:3
اسپین میں انتخابات ، حکمراں اور اتحادی جماعتیں کام یاب
جیو نیوز - بارسلونا…شفقت علی رضا … اسپین کے سب سے بڑے صوبے ’کاتالونیا ‘ کے صوبائی انتخابات2015 کامیدان موجودہ حکمراں اور اس کی اتحادی جماعتوں نے مار لیا ۔کاتالان پارلیمنٹ کی کل 135نشستوں کیلئے کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ صوبائی انتخابات کیلئے40لاکھ 78ہزار 201افراد نے77اعشاریہ 4 فیصد کی شرح سے ووٹ کاسٹ کئے ،جو کاتالونیا کا تاریخی ٹرن آوٹ ہے ۔
کاتالونیا کواسپین سے علیحدہ ملک بنانے کا نعرہ مارنے والی جماعتوں کے اتحاد کو” JXSi“پارٹی کا نام دیا گیا، اس اتحاد میں موجودہ حکمران جماعت سی ڈی سی اسکیرا ریپبلیکانا ، کومور خینسیا ڈیمو کریٹک پارٹی ، سول سوسائٹی کی ایسوسی ایشنز ، اومینیم اور اے این سی شامل تھیں ۔ اس اتحاد نے 16لاکھ 10ہزار 546ووٹوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی اور62نشستیں جیت لیں۔ یہ شرح39اعشاریہ 6فیصد رہی۔ اتحاد کے سربراہ موجودہ وزیر اعلیٰ کاتالونیا ’ آرتر ماس ‘ہیں ۔
دوسرے نمبر پر سیاسی پارٹی ”سیوتادانا“ رہی، جس نےانیس آریماداس کی سربراہی میں 7لاکھ26ہزار939ووٹ حاصل کر کے 25نشستیں جیتیں ۔تیسرے نمبر پر سیاسی جماعت ”سوشلسٹ “ رہی ،جس نے 5لاکھ 15ہزار 683ووٹ کے ساتھ 16نشستیں حاصل کیں۔ چوتھے نمبر پرا سپین کی سیاسی جماعتوں کا ایک اور اتحاد جسے سی ایس کیو ای پی کا نام دیا گیا تھا اور اس کے سربراہ ”لوئیس رابیل تھے ، اس نے3لاکھ 61ہزار 680ووٹ حاصل کئے ۔اس اتحاد نے 11نشستیں جیتیں۔پانچویں نمبر پر اسپین کی وفاق میں حکمران جماعت ”پاپولر پارٹی “رہی،جس نے ”شاویر گراسیا البیول “کی سربراہی میں 3لاکھ 44ہزار 806ووٹ لے کر 11نشستیں جیتیں ۔چھٹے نمبر پر ”سی یو پی “ رہی جس نے ”انتونیو بائیونس “کی سربراہی میں3لاکھ33ہزار657ووٹ حاصل کئے اور 10نشستیں اپنے نام کیں۔
کاتالان پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لئے 68نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پہلے نمبر پر آنے والے سیاسی اتحاد کے پاس 62نشستیں ہیں ۔دوسری طرف سی یو پی نے اپنی 10نشستوں کے ساتھ جیتنے والے اتحاد سے الحاق کر لیا ہے اس طرح اب JXSiکے پاس 72نشستیں ہو گئی ہیں لہذا موجودہ وزیر اعلیٰ آرتر ماس ہی اگلے چار سال کے لئے نئے وزیر اعلیٰ بنیں گے ۔
سیاسی جماعت آئی سی وی نے پاکستانی نژاد عدیل طاہر وڑائچ جبکہ سوشلسٹ پارٹی نے حافظ عبدالرزاق صادق کو اپنا امیدوار بنایا، تاہم دونوں پاکستانی انتخابی فہرست میں جس نمبر پر تھے ،ان کی سیاسی جماعتیں اس شرح سے ووٹ حاصل نہیں کر سکیں، جس سے پاکستانی امیدوار ممبر پارلیمنٹ بن سکتے،چنانچے دونوں پاکستانی رکن پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوسکے ۔آئندہ چار سال حکومت کرنے والے اتحاد نے کسی پاکستانی کو اپنا امیدوار نہیں بنایا تھا حالانکہ بہت سے پاکستانی جیتنے والے اتحاد کی سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ رکن ہیں۔