31 جولائی 2012
وقت اشاعت: 17:12
کشمیر سینٹر لندن کی دستخطی مہم اچھا اقدام ہے،علی رضاسید
جیو نیوز - پیرس …رضا چوہدری …کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاہے کہ کشمیر سینٹر لندن کی طرف سے دستخطی مہم کا آغاز اچھا اقدام ہے۔ اس سے کشمیرکونسل ای یو کی پہلے سے جاری دستخطی مہم پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ کشمیرکونسل ای یو نے یورپ کے مختلف ملکوں میں دستخطی مہم کا آغاز2010ء میں کیا تھا اور اس وقت سے اب تک برطانیہ کے شہروں لندن، برمنگھم، بریڈفورڈ اور مانچسٹر کے علاوہ دیگرممالک خصوصاً ہالینڈ، بلجیئم، فرانس، ناروے، سویڈن اور جرمنی میں اب تک بڑی تعدادمیں لوگ اس مہم کے تحت دستخط کرچکے ہیں۔ علی رضاسید نے کہا کہ تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے سے مل کرکام کرناہوگا۔ آپس میں ہم آہنگی کے ذریعے مسئلے کو نئے ،منفرد اندازاورطریقے سے اجاگرکرنے کی ضرورت ہے۔’جنگ‘ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کشمیرکونسل ای یو کی مہم کا مقصد صرف پاکستانیوں یا کشمیریوں کے دستخط حاصل کرنانہیں بلکہ اس مہم کے ذریعے یورپ کے مقامی باشندوں سے بھی دستخط لئے جارہے ہیں تاکہ یورپی عوام مسئلہ کشمیرکے بارے میں آگاہ ہوں اور اس مسئلے کو اجاگرکرنے کے لیے اپنے عوامی نمائندوں پر اثراندازہوسکیں، ایک ملین دستخط جمع ہونے پر انہیں ایک دستاویزکی شکل میں یورپی پارلیمنٹ میں پیش کیاجائے تاکہ کشمیرکی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بحث ہوسکے۔ کشمیرکونسل یورپ میں یورپین اداروں اور یورپین عوام تک کشمیریوں کی آواز پہنچانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر تحریک چلا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کشمیر کونسل ای یو ہر اس فرد یا تنظیم کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور کرے گی جو تحریک آزادی کشمیرکو یورپ میں اجاگر کرنے کے لیے خلوص دل کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ تحریک کی کامیابی کا راز اتحاد میں ہے اور اسے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے آگے بڑھایاجاسکتاہے تاکہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو اجاگرکرنے میں مددملے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا ظالمانہ چہرہ بے نقاب کیاجاسکے اور کشمیرمیں ہونے والے مظالم خاص طورپر ہزاروں بے نام قبروں کے مسئلے کو اٹھایاجاسکے جوبھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسلی کشی کاواضح ثبوت ہے،کشمیرکونسل ای یو اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جب تک کشمیریوں کو ان کاحق خودارادیت نہیں مل جاتااورکشمیریوں پر ظلم کرنے والوں کو ان کے کئے کی سزا نہیں مل جاتی۔ علی رضاسید نے واضح کیاکہ بھارت کویہ بات یادرہے کہ نازی مظالم کو ستر سال ہوچکے ہیں لیکن آج بھی نازی مجرم کٹہرے میں لائے جارہے ہیں، وقت آئے گاکہ کشمیریوں پر ظلم کرنے والوں کو بھی ظلم کا حساب دیناہوگا۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اپنے بیان میں امریکی صدر اوباما سے بھی اپیل کی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے میں اپناموثرکرداراداکریں،اگرلیبا، عراق، شام و جنوبی سوڈان کے عوام کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی برادری کردار ادا کرسکتی ہے تو کشمیرپر اس طرح کاکردارکیوں نہیں اداہورہا؟کم از کم کشمیریوں پر مظالم بندکروانے اور ان کے بنیادی حقوق کی بحالی اور ان کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔ حالانکہ عالمی برادری نے کشمیریوں کے ساتھ ان کا حق خودارادیت دلانے کا وعدہ کیاہواہے۔ پاکستان اوربھارت اس مسئلے کو چھ عشروں سے اکیلے حل نہیں کرسکے۔ آج کشمیری پرامن جدوجہدکررہے ہیں اور اگران کی آوازنہ سنی گئی تو کہیں کشمیری اپنے حقوق کے لیے دوسرا راستہ اختیارنہ کرلیں۔ یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری کشمیریوں کی آوازکو سنے اوران پر ہونے والے مظالم کو بند کروائے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں سری نگرمیں ان مظاہرین کے خلاف بھارتی اقدام قابل مذمت ہے جو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انیس سالہ کشمیری نوجوان حلال احمد ڈارکی بانڈی پورہ کے علاقے میں شہادت پر احتجاج کررہے تھے۔