23 اگست 2012
وقت اشاعت: 14:5
ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق نئی کتا ب میں تازہ انکشافات
جیو نیوز - نیویارک…ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کو کافی عرصہ گذر چکا ہے ،لیکن اس کے متعلق انکشافات اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ایبٹ آباد آپریشن کے متعلق نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسامہ کے خلاف آپریشن میں امریکا کو پاک فوج کی رضامندی حاصل تھی۔امریکا میں شائع ہونے والی تازہ ترین کتاب لیڈنگ فرام بی ہائنڈ:دی ری لکٹینٹ پریزیڈنٹ اینڈ دی ایڈوائزرز ہو ڈیسائڈ فار ہم،Leading from Behind The Reluctant President and the Advisers who Decide for him کے مصنف رچرڈ مینیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ لگتا ہے کہ اوباماانتطامیہ کو ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں پاک فوج کی خاموش رضامندی حاصل تھی۔2 مئی کو ہونے والے اس امریکی پریشن میں القاعدہ رہنمااسامہ بن لادن ہلاک کردیا گیا تھا۔ مصنف نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اگست 2010 میں آئی ایس آئی نے سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے کے بارے میں اہم معلومات دی تھیں۔کتاب کے مصنف واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جنرل کے سابق رپورٹر رچرڈ مینیٹر کا کہنا ہے کہ اوباما انتطامیہ اسامہ آپریشن میں پاکستان کے کردار کو درست انداز میں نہیں پیش کر رہی۔کتاب کے مصنف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاک فوج کے سربراہ کو دسمبر2010میں آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔ مصنف نے لکھا ہے کہ پاکستان اس سے سے زیادہ بن لادن آپریشن میں ملوث تھا جتنا کہ اوباما کی ٹیم تسلیم کرتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ نہ تو اسے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا اور نہ ہی اس نے اس آپریشن مین کوئی مدد کی ہے۔