3 مارچ 2016
وقت اشاعت: 6:56
انوکھا گاؤں ، جہاں بچہ دنیا میںـ’ـ اکیلا‘ نہیں آتا
کراچی .....انتخاب :مدیحہ بتول ....براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاؤں میں سے ایک گاؤں ایسا بھی ہےجہاں کثیر تعداد میں جڑواں بچےجنم لیتے ہیں۔ بعض گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے تقریباً تمام افراد جڑواں ہیں۔ان کے چہروں اور خدو خال میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اس حد تک کہ دور دراز سے آنے والے افراد خود کو’’ کلوننگ‘‘ کے موضوع پر بننے والی کسی فلم کے سیٹ پر کھڑامحسوس کرتے ہیں۔
’’ ایگیواوبرا ‘‘ نامی گاؤں ، براعظم افریقہ میںنائیجریا کے جنوب مغرب میںواقع ہے۔یہ دنیا کا واحد گاؤں ہے جس کے قیام کے بعد سے ، اس میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا تناسب دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہےجبکہ اس کا شمار براعظم افریقہ کے قدیم ترین گاؤں میں ہوتا ہے۔
یہاں سالانہ گیارہ فیصد سے بھی زیادہ جڑواںبچے دنیا میں قدم رکھتے ہیں ۔ اس گاؤں میں ایسے بے شمار گھرانے ہیں جہاں تواتر کے ساتھ آٹھ یا اس سے زائد مرتبہ جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی انوکھاقرار دیا ہے۔
یہاں رہنے والے افراد کی شکلوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے اور ان کو علیحدہ سے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے۔گاؤں کی ایک خاتون کے مطابق،وہ اکثر و بیشتر اپنے خاوند اور اس کے بھائی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرپاتی، دونوں ایک ہی وقت کی پیدائش ہیں۔
زیادہ تر اسکولوں میں ایک ہی جماعت میں بڑی تعداد میں جڑواں بچے موجود ہوتے ہیں اور اساتذہ کے لیے ان سے سوالات کرنا بذات خودایک امتحان ہوتا ہے۔
اس گاؤں میں پیدا ہونے والے بچوں کو’’ آئیڈنٹی کل ٹوئن‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ ایگیو اوبرا گاؤںکو گلوبل ریفوج فار ٹوئنزیعنی ’’دنیا بھر کے جڑواں افراد کی پناہ گاہ ‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔
ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بچوں کی پیدائش کے معاملے میں ڈی این اے کے ماہرین بھی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ اس گاؤں میں ایسی کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے یہاں اتنی کثیر تعداد میں جڑواں بچے جنم لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوڑے کے یہاں دو مرتبہ تو جڑواں بچے پیدا ہوسکتے ہیں لیکن تیسری مرتبہ اس کا امکان شاذونادر ہی ہوتا ہے جبکہ چوتھی اور پانچویں بار یہ قطعی ناممکنات میں سے ہے۔
نائیجریاپر غیرملکی استعمار سے قبل اس مملکت کے جنگلات میں پھیلے ہوئے گاؤں اور قصبات وحشیانہ رسومات کے پابند تھے۔اس دور میں جڑواں بچوں کی پیدائش کو نحوست اور قدرت کے قہر و غضب کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ خونخوار قبائلیوں کے مسلح دستے ایسے گھرانوں کی تلاش میں رہتے تھے جہاں انہیں کسی گھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی سن گن ملتی، وہ بچوں اور
ان کی ماؤں کو پکڑ کر سردار کے سامنے پیش کرتے جس کے حکم پر انہیں قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا جاتاتھا ۔
سن 1960میں آزادی کے بعدنائیجریا کی حکومت کی طرف سے اس کے تدارک کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے جس کے بعد اس فرسودہ قبائلی رسم کا خاتمہ ہوا۔ (جنگ مڈویک میگزین کی اشاعت20جنوری کے مضمون’’ ایک گاؤں ایک کہانی ‘‘سے ماخوذ)