3 اپریل 2016
وقت اشاعت: 2:2
آئن اسٹائن کا100سال پرانا نظریہ درست ثابت
کراچی.... واشنگٹن کی نیشنل سائنس فائونڈیشن اور ماسکو کی اسٹیٹ یونیورسٹی نے 100؍ برس پیشتر آئن اسٹائن کے پیش کر دہ تجاذُبی لہروں یعنی گریوٹیشنل ویوز کے نظریئے کے درست ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ طبیعات کے میدان میں ہونے والی صدی کی سب سے بڑی دریافت قرار پاسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں کائنات کو سمجھنے کی ایک نئی کلید ہاتھ آسکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سائنسی حلقوں میں ایسی غیر مصدقہ اطلاعات آرہی تھیں کہ تجاذبی لہروں کا پتہ چلانے میں کامیابی ہوگئی ہے۔ وہی تجاذبی لہریں جنہیں بعض سائنسدان کمزور کائناتی وقت کی جنبش قرار دیتے رہے ہیں اور جو روشنی کی رفتار سے وقو ع پذیر ہوتی ہیں۔اب سرکاری طورپر اس کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
واشنگٹن میں اسکا اعلان کرتے ہوئے لیگو لیبارٹری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ ریئٹز نے کہا ہے کہ ’’خواتین و حضرات ہم نے تجاذبی لہروں کا پتہ چلالیا ہے۔ یہ تجاذبی لہریں دو بلیک ہولز کے باہم ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہیں اور ایسے ہی 1رب 30کروڑ برس پیشتر ہونے والے ایک عمل میں دونوں بلیک ہولز یکجا ہوگئے تھے ‘‘
یہ لہریں اسپیس ٹائم (زمان و مکاں)کے تانے بانے کے حوالے سے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت کا سب سے اہم متغیر ہے ۔یہ وہ لہریں ہیں جن کے بارے میں ایک صدی پہلے آئن اسٹائن نے بتایا تھا اور جنہیں تلاش کرنے میں ایک صدی کا عرصہ لگ گیا۔باوجود اس کے کہ سائنسدان جانتے تھے کہ تجاذبی لہریں موجود تو ہیں۔
یہ دریافت لیزر انٹرفرموٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری کے استعمال سےممکن ہوئی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو تجاذبی لہروں کے گزرنے سے ہونے والی مہین ترین ارتعاش کا پتہ چلانے کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے تحقیق کے لئے امریکی نیشنل سائنس فائونڈیشن نے فنڈنگ کی تھی۔