تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
4 اپریل 2016
وقت اشاعت: 12:57

بھارت کا 20 شہروں کو ’اسمارٹ سٹی‘ بنانے کا منصوبہ

کراچی... آج کے دور میں ترقی کے ضمن میں’’پائے دار ترقی‘‘ کی نئی اصطلاح ایجاد ہوچکی ہے ۔ دنیا نئی کروٹ لے رہی ہے اس لیے اب سرحدوں اور سمندروں کے پارشہروں کے بارے میں نیاتصور تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے اورہرطرف سے سرسبز اور اسمارٹ شہر بنانے کی صدا آرہی ہے۔اس کے برعکس ہماراالمیہ یہ ہے کہ یہاںپہلےجو شہر کچھ ’’اسمارٹ‘‘ تھےانہیںتباہ کیا جارہاہے۔

حال ہی میں بھارت کی حکومت نےبیس شہروں کو اسمارٹ سٹی بنانے کا منصوبہ بنایا جس کے اعلان کے ساتھ پاکستان میں بہت سے افراد نے سرکھجانا شروع کردیئے اور ایک دوسرے سےسوال کرنے لگے کہ اسمارٹ سٹی آخر کس بلا کا نام ہے۔

بھارت کی مرکزی وزارت شہری ترقیات نے اسمارٹ سٹی منصوبے کا جو تصور پیش کیا ہے اس میں ای گورننس، آن لائن خدمات کی فراہمی، اطلاعات عامہ ، بلا رکاوٹ پانی اوربجلی کی فراہمی،موثر ٹرانسپورٹ کا نظام ، تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں شامل ہیں ۔

بھارتی حکومت نےگزشتہ برس اگست میں 97شہروں کوشارٹ لسٹ کیاتھا۔پہلے مرحلہ میں 20اور اگلے ہر دو سال میں چالیس چالیس شہروںکو اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کیلئے منتخب کیا جائے گا۔

نئی دہلی سے جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ان شہروں کو اسمارٹ بنانے کے سلسلے کا مقصد عمومی معیار زندگی میں بہتری کے علاوہ وہاں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے جس سے چار ملین کے قریب روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

نریندر مودی کی حکومت نے پہلے مرحلے میں ملک کے طول و عرض میں واقع جن 20 شہروں کواسمارٹ بنانےکا اعلان کیا ہے ان میں سے 13 ایسے ہیں جو عالمی ادارہ صحت کی دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں سرفہرست بھارتی دارالحکومت نئی دہلی ہے۔

منصوبے کے تحت یہاں مجموعی طور پرسات اعشاریہ پانچ ایک بلین امریکی ڈالرز کے مساوی مالی وسائل خرچ کیے جائیں گے۔ شہروں میں سے ہر ایک کو پہلے سال دو ارب اور بعد میں تین سال تک ایک ارب روپےدیئے جائیں گے۔منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی ان بیس اسمارٹ شہروں کا عمومی معیار زندگی یورپی شہروں کے معیار زندگی کے ساتھ قابل موازنہ بنا دیا جائے گا۔

بھارت کی مرکزی حکومت سات اعشاریہ پانچ ایک ارب ڈالر زکے ابتدائی اخراجات کے ساتھ پہلے ہی دو پروگرام ‘اسمارٹ شہر مشن ’’اوراٹل مشن فار ریجووینیشن آف اربن ٹرانسفارمیشن ‘‘ شروع کئے ہیں جو 500 موجودہ شہروں کے اپ گریڈ کئے جانے سے متعلق ہیں۔

اب تک بھارت کے کئی شہر نہ صرف عام شہریوں کے لیے ٹائلٹ جیسی سہولتوں سے متعلق بنیادی انفرااسٹرکچر تک سے محروم ہیں بلکہ وہاں ہر سال لاکھوں انسانوں کی دیہی علاقوں سے آمد کے باعث یہ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے خراب تر ہو تی جارہی ہے۔

ان کی حالت زار سے پتہ چلتا ہے کہ ان شہروں کواسمارٹ بنانے کے لیے فنانسنگ باعث تشویش ہے،اس کے ضمن میں حکومت کی انتظام کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اہم چیلنجز ہیں۔
(’جنگ مڈویک میگزین ‘کی اشاعت10فروری کے مضمون سےماخوذ)

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.