تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
10 اپریل 2016
وقت اشاعت: 9:32

ایک منفرد وادی ’اشکومن‘ جہاں12 زبانیں رائج ہیں

کراچی.....انتخاب : مدیحہ بتول.....پاکستان میں سیرو سیاحت کے لحاظ سے ایسے بہت سے مقامات ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی بنا پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایسی ہی ایک سرزمین ہمارے ملک کا حصہ ہےجس نےبرف پوش پہاڑوں سے نکلنے والے درجنوں نالوں،جھرنوں،آب شاروں اور مرغزاروں کو اپنے سینے پہ لیا ہوا ہے۔

پہاڑی چٹانیں معدنی دولت سے بھری ہوئی ہیں۔سیرو تفریح کی غرض سے آنے والے،یہاں پہنچنے کے بعد خود کو ایک نئی دنیا میں پاتے ہیں۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں بیک وقت بارہ زبانیں سمجھی اوربولی جاتی ہیں۔

یہ حسین وادی ’’اشکومن‘‘ہےجو پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ’’ وادی قرمبر ‘‘ کے نام سےبھی مشہورہے۔یہ علاقہ کوہ قراقرم سے ہمالیہ پہاڑ تک 129 کلو میٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ شمال مغرب میں 65کلومیٹر کے فاصلے پر گاہکوچ سے گلگت جبکہ افغانستان کا واخان بارڈر پچاس کلو میٹر کی دوری پرسطح سمندر سے 7000فٹ کی بلندی پرواقع ہے ۔

ہرے بھرے میدانوں اور جھیلوں سے بھری ،وادیٔ اشکومن میں درجۂ حرارت سردیوں کے موسم میں صفر سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ موسم سرما میں نومبر سے فروری تک بے پناہ سردی پڑتی ہے اور ان دنوں کئی فٹ تک برف پڑتی ہے۔ مارچ سے مئی تک بہار کا موسم ہوتا ہے جس میں بے پناہ بارش ہوتی ہے۔ لوگ اس موسم میں اپنی فصلیں کاشت کرتے ہیں۔

جون سے اگست تک موسم خاصا گرم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گلیشئر پگھلنا شروع ہوتے ہیں،دریا چڑھنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات ان میں سیلابی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

ان نالوں میں جنگلی حیات جن میں مارخور، کیل، چیتا، بھیڑیا، مرغابی، رام چکور، لومڑیاں اور پرندوں میں کوئل، کبوتر، چیل اور دیگر پرندے مختلف موسموں میں یہاں اپنا مسکن بناتے ہیں۔

گلگت کایہ علاقہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہاں تقریباً ایک درجن زبانیں رائج ہیں، جن میں وخی، کھوار، شینا، پشتو، فارسی، کجری، کرغیزی، بروشسکی، کیلی، اردود، انگریزی اور عربی قابل ذکر ہیں۔ یہاں مختلف ادوار میں مختلف نسل اور علاقے کے لوگ آباد ہوتے رہے، جنہوں نے یہاں اپنی زبانوں کو رائج کیا۔

کہا جاتا ہےکہ بیسویں صدی کی پہلی دہائی کے نصف عشرے میںاس کا شمار گلگت کی وسیع و عریض چراگاہ میں ہوتا تھا، جوجنگلات، گھاس پھوس اور سبزے کی فراوانی کی وجہ سے گلہ بانی کیلئے بہت مشہور تھی۔

1905 میں قُرمبرنالے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے اس وادی کی جغرافیائی ہئیت میںبڑے پیمانے پر تبدیلی رونما ہوئی۔اسی وجہ سے یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ کبھی رکتا کبھی بڑھتا رہا۔

ماضی میں یہ علاقہ دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔اس کی آبادی 30ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ گندھارا تہذیب کے زمانے میں چینی بدھسٹ اسے بہ طور گزرگاہ استعمال کرتے تھے اور یہاں سے اس وادی سے واخان، پامیر اور یاسین سے ہوتے ہوئے گلگت جایا کرتے تھے۔

پہلے پہل اس وادی کواشقمان بھی کہا جاتا تھاجوبروشسکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سرسبز کھیت اور ہرے بھرے میدانوں کے ہیں۔ موجودہ دورمیںیہ لفظ بگڑکراشکومن بن گیاہے۔بروشسکی ، پاک وہند میں بولی جانے والی ایک میٹھی مگر گمنام زبان ہے جو نگر، ہنزہ اور یاسین کے بروشو قوم بولتی ہے۔یہ زبان بہت قدیم ہے اور اس کی ابتدا کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ (جنگ مڈویک میگزین کی اشاعت10فروری 2016کے مضمون’’دشت ودریا‘‘ سے ماخوذ)

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.