8 اپریل 2015
وقت اشاعت: 18:4
لاہور میں تیسری دو روزہ بین الاقوامی غالب کانفرنس کا اختتام
جیو نیوز - لاہور.......لاہورمیں تیسری2 روزہ بین الاقوامی غالب کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس میں کئی ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے مرزااسداللہ خان غالب کو اردو ادب کےماتھےکا جھومرقراردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرزاغالب کسی ایک عہد کے نہیں، بلکہ ہر دور کے شاعر ہیں۔ تیسری2 روزہ بین الاقوامی غالب کانفرنس کااختتامی سیشن ہواپنجاب انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ لینگوئج میں۔ رونق افروزہونےوالوں میں ڈاکٹرسلیم اختر، ڈاکٹرانجم طاہرہ، شمشاد احمد خان، ڈاکٹر انیس الرحمٰن اورتاشقند سےآئے محقق طاش مرزا بھی شامل۔ محقق ڈاکٹر انجم طاہرہ نےغالب کو اردو زبان کا سُرخیل قرار دیا۔ ان کاکہناتھاکہ غالب کی اردو اور فارسی شاعری میں فلسفیانہ خیالات بھی جا بجا ملتے ہیں۔ تاشقندسےآئےڈاکٹر طاش مرزا کاکہناتھاکہ جذبوں اور تخیلات کو جو زباں غالب نے دی،یہ انہی کا خاصا ہے،غالب نےزندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو آسان فہم انداز میں بیان کیا۔ شرکاء کا اتفاق تھا کہ اردو ادب کو معتبر بنانے والے غالب کا فن حدود و قیود اور رسوم و رواج کا پابند نہیں، وہ گئےوقتوں میں بھی اردو ادب کا وقار تھے،وہ آج بھی دلوں کی دھڑکنوں کے ترجمان ہیں اور وہ آنے والی نسلوں کےجذبوں کو بھی جلا بخشتے رہیں گے۔