25 اگست 2015
وقت اشاعت: 8:19
60ءکی دہائی کے مشہورگلوکار سلیم شہزاد گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور
جیو نیوز - کراچی......ساٹھ کی دہائی میں کئی فلموں کے مشہورگیت،گانے والے پلے بیک سنگر سلیم شہزاد اپنے منفرد اسٹائل کی وجہ سے بہت جلد پاکستانی فلم انڈسٹری میں مقبول ہوئے،مگر فلم انڈسٹری اور حکومت کی بے رخی کے سبب گمنامی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہوگئے۔ پاکستان میں فن اور فنکار کی ناقدری کوئی انوکھی بات نہیں،اس کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں،اداکارہ روحی بانو، اداکار منالاہور ی عرف زکوٹا جن جیسے کئی فنکار سماج اورحکومتی بے حسی کا شکارہیں۔ گلوکار سلیم شہزاد بھی ان فنکارں میں سے ایک ہیں اورکسمپرسی کی زندگی گزا ر رہے ہیں،خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے ان کا فن زوال پذیر ہے۔ گلوکار سلیم شہزاد نے حکومت اورمیڈیا سے شکوہ کیا ہے کہ انہوں نے حال تک پوچھنا گوارانہ کیا۔ اپنی منفرد گائیکی سے ماضی میں مقبولیت حاصل کرنے والے گلوکار سلیم شہزاد نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کےلیے بھی بے شمار گیت گائے،تلاش،ہیرااور پتھر،سوغات،اکیلے نہ جانا،آوارہ،جیسی فلموں میں گائے ان کے گیت آج بھی شوق سے سنے جاتے ہیں۔ سلیم شہزا د کا ارادہ نووارد گلوکاروں کے لیے گائیکی اکیڈمی کھولنے کا ہے تاکہ ان کے فن سے نئے آنے والے استفادہ کر سکیں۔ سلیم شہزادجیسے گائیک قوم کا اثاثہ ہیں تاہم مناسب پذیرائی نہ ملنے کے سبب ان کا فن زوال پذیر ہے۔