22 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 6:43
یہ” منٹو “کون تھا؟
جیو نیوز - کراچی…ساگر سہندڑو… یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برصغیر کے بڑے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی بیالیس سالہ زندگی اور ان کے لازوال کام پر بنائی جانے والی 127منٹ پر مبنی فلم نہ صرف’ منٹو‘ اور ان کے قلمی شاہکاروں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے بلکہ یہ فلم شائقین اور نئی نسل پر بھی ظلم ہے لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس فلم کے علاوہ منٹو پر ا?ج تک کوئی کام نہیں ہواَ
پاکستان فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی یہ پہلی کوشش اور قدرے کامیاب کوشش ہے جس سے نوجوان نسل سمیت بڑی عمر کی اکثریت’ منٹو‘ سے روشناس ہوئی ہے تبھی تو فلم دیکھنے کے بعد لوگ یہی پوچھتے پھر رہے ہیں یہ منٹو کون تھا۔۔!؟
ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ توپہلے ہی منٹو کے دلدادہ تھے لیکن فلم دیکھنے کے بعد کالجز کے لڑکے اور لڑکیاں بھی’ کتاب گھروں‘ میں منٹو کو پوچھتی پھر رہی ہیں۔ میں ایک ہوٹل پر چائے پینے بیٹھا ہی تھا کہ 55اور 60سال کی عمر کے دو بزرگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے ، ایک نے کہا” جیو والے بتا رہے تھے کوئی منٹو تھا جو اب دوبارہ زندہ ہوگیا ہے؟ آخر یہ منٹو کون تھا۔۔!؟“
سعادت حسن منٹو کو پڑھنے والے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ منٹو کے افسانے پڑھتے وقت لوگوں کی توقعات کتنی بڑھ جاتی ہیں اور جب وہی توقعات حقیقت کا روپ دھار کر اسکرین پر آجائیں تو تشنگی کس قدر بڑھ جاتی ہے؟
کلاسیکل ڈانسر سوہائی ابڑو اور تھیٹر کے باصلاحیت اداکار وجدان شاہ کے رقص سے شروع ہونے والے منٹو کے تمام اداکاروں نے اپنے اپنے کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے لیکن سرمد کھوسٹ سبھی کے خیالوں میں منٹو بن کر چھائے رہے۔
فلم میں منٹو کی زندگی اور ان کے لکھے گئے لازوال افسانوں کو فلم ناقدین اور شائقین تک پہنچانے کے لئے مختصر مگر بہت عمدہ کام کیا گیا ہے، فلم دیکھنے کے بعد ہرکسی کی خواہشات بڑھ جاتی ہیں لیکن منٹو کے افسانوں پر فلمائے گئے مختصر سین دیکھ کر غصہ بھی آنے لگتا ہے۔
’منٹو‘ اور اس کا فن ایک ایسا موضوع ہے جو شاید سلسلے وار فلموں سے بھی مکمل نہ ہوپائے تو بھلا اتنے بڑے موضوع کو 127 منٹوں میں پیش کرنا کیسے ممکن ہے؟
سرمد کھوسٹ ، بابر جاوید اور شاہد ندیم نے بہت عمدہ طریقے سے منٹو کی زندگی اور فن کے ایسے نمونوں کو پیش کیا ہے جس سے لوگ مجبورا منٹو کو ڈھونڈنے لگے ہیں ۔ فلم دیکھنے کے بعد منٹو کے پرستاروں اور چاہنے والوں میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ اس سے پہلے وہ منٹو سے بے خبر تھے۔
فلم کے مناظر ریکارڈ کراتے وقت کیمروں، لائٹنگ، ڈریسنگ اور میک اپ سمیت وائس کوالٹی کا بھی خوب خیال کیا گیا ہے، سبھی اداکاروں نے کرداروں میں ڈوب کر اپنے کردار ادا کئے لیکن یہ سمجھنا اور کہنا کہ فلم کی ہر چیز پرفیکٹ تھی غلط ہوگا۔
فلم میں منٹو کے مشہور ترین افسانوں ”ٹھنڈا گوشت“،” ٹوبہ ٹیک سنگھ“،” لائسنس“،” اوپر، نیچے اور درمیاں“، ”پشاور سے لاہور تک“ وغیرہ کو بھی مختصر ترین دورانئے میں پیش کیا گیا ہے جس سے دیکھنے والوں کی تشنگی مزید بڑھ جاتی ہے۔ فلم میں اگر ان افسانوں کا دورانیہ بڑھا دیا جاتا تو تشنگی جنم نہ لیتی اور پھر کوئی بھی بک اسٹالوں پر” ٹھنڈا گوشت“ اور” ٹوبہ ٹیک سنگھ“ نہ ڈھونڈتا پھر رہا ہوتا۔
”منٹو “کی ٹیم اگر فلم کا دورانیہ تھوڑا سا مزید بڑھا دیتی اور اس میں منٹو کی زندگی سمیت ان کے کام کے کچھ مزید پہلو ڈال دیتی تو دیکھنے والے منٹو کی شخصیت اور فن کو مزید سمجھ پاتے۔ دیکھنے والوں کی بہت ہی بڑی تعداد ’منٹو ‘اور اس کے کام سے ناواقف ہے۔
”منٹو “کے مشہور افسانوں کو ایک جگہ سینما اسکرین پر دیکھ کر ”منٹو “کے مزید شاہکار افسانوں کی غیر موجودگی کا احساس بھی ہوتا ہے جس میں ”کالی شلوار“،” لاؤڈ اسپیکر“،” شکاری عورتیں“،” بغیر اجازت“، ”پردے کے پیچھے“ اور” خالی بوتلیں“ جیسے افسانے شامل ہیں۔