29 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 9:47
پاکستانی پلے بیک سنگر نسیم بیگم کی 44برس پرانی یادیں
جیو نیوز - کراچی......مشتاق احمد سبحانی......آج پا کستانی فلمی دنیاکی نامور گلو کارہ نسیم بیگم کی 44ویں برسی ہے۔ وہ 29ستمبر 1971 ء کو صرف 35برس کی عمر میں ہم سے جدا ہو گئی تھیں۔19سال کی عمر سے شروع ہونے والا ان کا کیر ئیر صرف 16برس تک جاری رہا مگر اس مختصر عرصے میں انہوں نے بہت سی اردو اور پنجابی فلموں کے لئے بے شمار گیت گائے اور تقریباً تمام گانے مقبول ہوئے۔وہ کلا سیکی، نیم کلا سیکی اور ہلکے پھلکے گیت، طربیہ و حزنیہ گانے اور غزلیں مہارت سے گاتی تھیں۔
نسیم بیگم 24فروری1936ء کو امرتسر میں پیدا ہوئیں اور بچپن ہی میں لاہور آگئیں۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم استاد عاشق علی خان سے حاصل کی اور گائیکی کا فن مختار بیگم سے سیکھاجو ممتاز گلو کارہ فریدہ خانم کی بڑی بہن ، استاد اور اپنے دور کی ایک بڑی مغنّیہ تھیں۔
نسیم بیگم نے گلوکاری کا آغاز 1950ء میں ریڈیو پاکستان لاہورسے14 برس کی عمر میں کیا۔ پھر1955ء سے فلموں کے لئے گانا شروع کیا۔ سب سے پہلے انہیں مشہور موسیقار جی اے چشتی نے پنجابی فلم ”گڈّی گڈّا“ میں گانے کا موقع دیا۔
بعد میں مو سیقار شہر یار نے ان سے فلم ”بیگناہ“ کے لئے چار گانے گوائے۔ان میں سے ایک گیت ”روٹھ گیا مورا پیار“بے حد مقبول ہوا اور انہیں ایک بڑی فلمی گلوکارہ بنا گیا۔اس کے بعد تو نسیم بیگم مسلسل فلموں کے لئے گاتی رہیں۔
اگرچہ نسیم بیگم کو بابا چشتی نے دریافت کیا مگر انہیں عوام سے روشناس کرانے والے شہر یار تھے جبکہ اسی دور کے ایک اور نامور موسیقار رشید عطرے نے ان کے فن کو عروج پر پہنچا یا۔
نسیم بیگم نے محنت ،لگن اور ذوق و شوق سے فلموں کے لئے گانے گائے۔ انہوں نے 1960ء سے 1964ء تک پانچ سالوں کے دوران چار مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔اس دور کے ہر بڑے اور چھوٹے موسیقار نے ان سے فلموں کے لئے گانے گوائے۔وہ سننے والوں میں حد درجہ مقبول تھیں۔ ان کے بیشمار گیت ابھی تک زندہ ہیں۔
نسیم بیگم کے گائے ہوئے مشہور گانوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اس فہرست میں” روٹھ گیا مورا پیار(فلم بے گناہ)، دیساں دا راجہ(کرتار سنگھ)، سانوریا من بھایورے(سلمیٰ)، ہم بھول گئے ہر بات(سہیلی) ، سو بار چمن مہکا(شام ڈھلے)، چھن چھن چھن پائل باجے(گلفام)، رنگِ محفل ہے اور نہ تنہائی(جادْ وگر)، سْن سْن سْن مری پائل کی دْھن(گھونگھٹ)، اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو(شہید)، چندا توری چاندنی میں(باجی)، نگا ہیں ہوگئیں پْرنم (لٹیرا)، میرا بچھڑا بلم گھر آگیا(حویلی)، اب کہاں ان کی وفا (کوثر)، سانوں وی لے چل نال وے او سوہنی گڈی والیا(چن پتر)، دے جا چھلا نشانی(چن پتر)، اج میں نچاں ساری رات(مفت بر)، ہمیں یقیں ہے ڈھلے گی اک دن ستم کی یہ شام(زرقا) جیسے گانے ہمیشہ سرفہرست رہیں گے۔
نسیم بیگم نے بہت سے مشہور ملی نغموں کو بھی اپنی آواز دی اور انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا مثلاً ” اے راہِ حق کے شہیدو ،وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی فضا ئیں سلام کہتی ہیں“۔ یہ قومی نغمہ انہوں نے فلم ”مادرِوطن“ کے لئے گایا تھا اور اس قدر دلسوزی سے گایا کہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔
نسیم بیگم نے ریڈ یو پاکستان کے لئے حفیظ ہوشیار پوری کی ایک غزل بھی گائی تھی جو بے حد مقبول ہوئی ۔اس کا مطلع تھا: ”محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے، تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے“
آج واقعی نسیم بیگم اس ’محفل‘ میں نہیں جسے دنیا کہتے ہیں لیکن اپنی آواز کی بدولت وہ ہمیشہ زندہ جاویداں رہیں گی۔
مشتاق احمد سبحانی
تجربہ کار صحافی ہیں اور45 سال سے زائد عرصے سے مختلف موضو عات پر مضامین لکھ رہے ہیں۔ان دنوں جنگ اور جیو کی ویب ڈیسک سے وابستہ ہیں۔ کھیلوں اور تفریحات سے متعلق خبریں اور رپورٹس بنانا اس کی ذمے داری میں شامل ہے۔