29 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 10:37
بھارتی فلم سازوں کا بھی سرکاری ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان
جیو نیوز - ممبئی......بھارتی لکھاریوں اور شاعروں کے بعد فلم سازوں نے بھی حکومتی ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ( ایف ٹی آئی آئی ) کے طلبہ نے بھی حکومتی پالیسیوں اور انتہاپسندی کے خلاف 136دن کی ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق فلم ساز ”دباکر بینرجی ، آنند پٹوردھن، پاریش کامدار،نشتھا جین، کرتی نخوا، ہرش وردھن کلکرنی، ہری نیئر، راکیش شرما، اندرانیل لہری اورلپیکا سنگھ درائی “نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے نیشنل ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا جبکہ فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹی ٹیوٹ کے مزید تین سابق طلبہ نے بھی احتجاجا ًاپنے ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی فلم سازوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت جلد سے جلد ہر شہری کے اظہار آزادی کے تحفظ کو یقینی بنائے -
فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے جس تاریخی جدوجہد کے لئے احتجاج کا آغاز کیا ہے ہم اس ادارے کے سابق شاگرد ہونے کے ناتے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ایوارڈز واپس کرنے والے لکھاریوں اور شاعروں کے بھی ساتھ ہیں۔
ایوارڈز واپس کرنے والے فلم ساز دباکر مکھرجی نے ” کھوسلا کا گھوسلا اوراوئے لکی ، لکی اوئے “ فلمیں بنائیں ہیں۔
فلم ساز نشتھا جین نے عورتوں کے مسائل پر ” گلابی گینگ “ فلم بنائی جبکہ کرتی نخوا نے ”لوسٹ اینڈ فاؤنڈ“راکیش شرما نے ” فائنل سولیوشن“ ہری نیئر نے ” شمس وڑن“اندرا نیل لہری نے ” امر کتھا“ لپیکا سنگھ دارائی نے ” گارود اوراکا گھچا، اکا منیشا، اکا سمندرا“ جیسی فلمیں بنائیں۔
بھارتی فلم سازوں سے پہلے بھارتی لکھاریوں اور شاعروں نے بھی سرکاری ایوارڈز واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی فلم سازوں، لکھاریوں اور شاعروں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی، اقلیتوں کے قتل عام سمیت شوسینا کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف ایوارڈز واپس کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔