19 نومبر 2015
وقت اشاعت: 8:20
پاکستانی فلم ”منٹو“ نے کولکتہ فلم فیسٹیول میں سحرطاری کردیا
جیو نیوز - کراچی…مشتاق احمد سبحانی…پاکستان میں تجارتی لحاظ سے سب سے کامیاب قرار دی جانے والی آرٹ فلم ”منٹو“نے جس کے اسکرپٹ نے فلمی ناقدین اور شائقین دونوں کو سحر زدہ کردیا تھا وہ اب سرحد پار بھی جادو جگا یا ہے۔اْردو کے ایک بڑے مگر متنازعہ ادیب سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بنائی گئی یہ فلم اتوار کو کولکتہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے لئے پیش کی گئی توفلمی ماہرین، ناقدین اور شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہال سے لوگ فلم کے بارے میں ایک دیرپا تاثر لے کر نکلے۔
”منٹو“ کی نمائش کے دوران فلم کے ہدایت کارسرمد کھوسٹ، جنہوں نے خود منٹو کا کرداربھی ادا کیا ہے ، اپنی ساتھی اداکارہ نِمرہ بْچّہ کے ہمراہ موجود تھے۔ایک بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ ہدایت کارسرمد کھوسٹ نہ صرف یہ کہ لوگوں کو جذبات کے دریا میں موج زن کرنے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے فلم بنانے والوں کو ایک یا دو سبق بھی سکھائے کہ سوانحی(بائیوپک) فلمیں کس طرح بنائی جاتی ہیں۔
فلم کی نما ئش کے بعد معروف ہدایت کار ادیتی رائے نے کہا کہ”عام طور پر ہم اپنے ہیروز پر بائیوپک فلمیں بناتے ہیں تو ان کی تمام خوبیاں اور کامیابیاں دکھاتے ہیں جبکہ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں لیکن اِس فلم میں ایک ادیب کے کردار کو اس کے حقیقی رنگ میں اس کی خامیوں سمیت پیش کیا گیا ہے۔اس کے برعکس بھارت میں زیادہ تر سوانحی فلموں میں ہدایت کار مرکزی کرداروں کے نام تبدیل کر دیتے ہیں جبکہ اس فلم میں ایک ادیب کی شراب نوشی دکھانے کے علاوہ ہدایت کار نے ایک جعلی نام کے لئے کوئی عذر تلاش نہیں کیا۔“
فلم ”منٹو“میں مفلسی کے ہاتھوں ایک عظیم ادیب کی ذلّت کو اس کمال ِخوبی سے پیش کیا گیا کہ اسے دیکھ کر اکثر لوگ رو پڑے۔ ہدایت کار راج چکرورتی نے کہا کہ ”فلم کے اختتامی لمحات میں منٹو کو مخدوش حالات سے گزرتے دیکھ کر میں رونے لگا۔ پھر جیسے ہی فلم ختم ہوئی، میں اپنے معاون ہدایت کاروں کے ساتھ بیٹھ کر دو گھنٹوں تک اس فلم کے بارے میں تبادلہ خیال کرتا رہا۔ اگرچہ مسائل سنجیدہ نوعیت کے تھے مگر فلم کا مجموعی تاثر مایوس کْن نہیں تھا۔میں کہانی سنانے کے انداز سے بیحد متاثر ہوا۔“
اگرچہ فلم کو بے انتہا پذیرائی حاصل ہوئی تاہم یہ کھوسٹ تھے جنہوں نے میلہ لْوٹ لیا، نہ صرف فلم کے ٹائٹل رول میں اپنی بے حد متاثر کْن کارکردگی سے بلکہ شو کے آغاز سے پہلے اسٹیج پر آکرانہوں نے وہاں موجود بھارتی فلم بینوں کو ایک محبت بھرا پیغام دیا اور کہا کہ”جو کچھ ہمارے بارے میں کہا اور لکھا جاتا ہے اس پر یقین نہ کریں۔ہم یہاں محبت دینے کے لئے آئے ہیں۔“
ادیتی رائے نے کہا کہ ”میں خوش ہوں کہ کھوسٹ اور ان کی ساتھی اداکارہ ذاتی طور پر کولکتہ آئے اور ہمیں دکھایا کہ آج کل پاکستان میں کس قسم کا کام ہورہا ہے۔میں یہ دیکھ کر بے حد متاثر ہوا۔“
سرمد کی یہ پہلی فیچر فلم امریکہ بھی جا پہنچی ہے اور وہاں ہارورڈیونیورسٹی اور براوٴن یونیورسٹی جیسی بڑی دانش گاہوں میں اس کی نمائش کی گئی جس نے فلم سازی اور پاکستان میں سنیما کے مستقبل پر مباحثوں کو جنم دیا۔اگرچہ یہ فلم مقررہ تاریخ کے بعد آنے کی وجہ سے آسکر ایوارڈ کے لئے نامزدگی کے مقابلے میں جانے سے محروم رہی مگر اس نے ملک کا وقار بلندکیا ہے۔
سرمد کھوسٹ نے کہا کہ” فلم کو پاکستان میں اور بین الاقوامی فلمی میلوں میں جو پذیرائی ملی ہے وہ سعادت حسن منٹو کی ادیب کی حیثیت سے عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں جن حالات پرلکھا وہ اب بھی موجود ہیں۔کچھ زیادہ نہیں بدلا۔“
انہوں نے کہا کہ منٹو صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے برّصغیر کی میراث ہیں۔ وہ اظہارِرائے کی آزادی کی علامت ہیں۔
لیجنڈری ادیب منٹو کی حقیقی زندگی پر مبنی اس فلم میں پاکستانی میڈیا کے کئی بڑے اداکاروں نے کام کیا ہے جن میں ثانیہ سعید، ماہرہ خان، صبا مر، حنا بیات خواجہ، نمرہ بچہ کے علاوہ خود ہدایت کار سرمد کھوسٹ بھی شامل ہیں۔
مقامی باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس فلم کی بین الاقوامی طور پر واشنگٹن ڈی سی ساوٴتھ ایشین فلم فیسٹیول اور امریکی دانش گاہوں جیسے ییل، ہارورڈ، کولمبیایونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں بھی کامیاب نمائش کی گئی۔اب اسے21ویں کولکتہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی بے حد سراہا گیا ہے۔
کولکتہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول دنیا کا دوسرا قدیم ترین فلمی میلہ ہے۔ 1995سے شروع ہونے والے اس فیسٹیول کا انعقاد ہر سال نومبر میں بھارتی کولکتہ میں ہوتا ہے جس کا اہتمام مغربی بنگال کی حکومت کے تحت ویسٹ بنگال فلم سینٹر کرتا ہے۔2013 کے میلے میں بھی ایک پاکستانی فلم”خدا کے لئے“پیش کی گئی تھی جو شعیب منصور نے بنائی تھی۔