7 دسمبر 2015
وقت اشاعت: 9:31
بھارتی فلموں میں قابل اعتراض مناظر کو سنسر کر نے پر نئی بحث چھڑ گئی
جیو نیوز - کراچی …مشاق احمد سبحانی …گزشتہ چند سالوں سے بھارتی فلموں میں قابل اعتراض مناظر کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب یہ مناظر شاید عام بات ہوگئے ہیں اور تقریباً ہر فلم میں دکھائے جاتے ہیں۔
بھارت کافلم سنسر بورڈ ،جسے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن(سی بی ایف سی) کہا جاتا ہے، اِن مناظر پر عام طور پرکوئی اعتراض نہیں کرتا اور ایسی فلموں کو نمائش کی اجازت دے دیتا ہے تاہم ایسی فلموں کو جن میں قربت وخلوت کے مناظر یا نیم عریانی یا بوس و کنار کے مناظرزیادہ ہوں ، ’اے‘ سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے، یعنی یہ فلمیں صرف بالغان دیکھ سکتے ہیں۔
حال ہی میں 2 فلموں کے ساتھ سی بی ایف سی کے سلوک پربالی ووڈ کی جانب سے سخت تنقید کی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا مذاق اْڑایا گیا ۔ فلم ”تماشہ“ میں رنبیر کپور اور دپیکا پڈوکون کا ایک منظر سی بی ایف سی نے سنسر کرکے مختصر کردیا کیونکہ اْس کے نزدیک یہ زیادہ طویل تھا۔
پھر کچھ دنوں بعد ہالی ووڈ اور جیمز بونڈ کی فلم ”اسپیکٹر“نمائش کے سرٹیفکیٹ کی غرض سے بورڈ کے سامنے پیش ہوئی تو چیئرمین پہلاج نہالانی نے اس کے 4 مناظر پر اعتراض کیا، نہالانی کے خیال میں یہ مناظر طویل تھے لہذا ایک منٹ کے سین کو 50 فی صد کم کرکے 30 سیکنڈ کا کردیا،اِن اقدامات پر بالی ووڈ کے مختلف فلم سازوں، ہدایتکاروں اور اداکاروں کی جانب سے بورڈ کی مذمّت کی گئی اور سماجی ذرائع ابلاغ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا،انہیں اظہارِرائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا ۔
خود سی بی ایف سی ہی کے ایک اہم رْکن اشوک پنڈت نے ایک ٹویٹ میں بورڈ کے چیئرمین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بین الا قوامی سطح پر سراہی جانے والی فلم ’اسپیکٹر‘ پر قینچی چلا کر نہ صرف تخلیقی حقوق کی پامالی کی ہے بلکہ بھارت کے جمہوری، سیکولر اور لبرل تصور کو بھی متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلاج نہالانی جو ایک معروف فلم ساز ہیں انہوں نے خود اپنی فلموں میں بیہودہ مناظر ، خاص طور پر ہیجان خیز گانوں کے رواج کو جنم دیا اور اب وہ فلم سازوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
نامور اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی نے کہا کہ ان فلموں میں قابل اعتراض مناظر کا اختصار نہالانی نے اپنے ساتھی ارکان کے ساتھ کسی مشاورت کے بغیر محض اپنی صوابدید پر کیا جبکہ سنسر ایکٹ میں سین کی طوالت کے بارے میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے چیئرمین فلم بینوں کے لئے 30 سیکنڈ کا سین کافی سمجھتے ہیں جبکہ ایسے کسی بھی فیصلے سے پہلے قانونی طور پر سین کی طوالت اور معیار کا تعیّن کرنا ضروری ہے۔اس پر نہالانی نے کہا کہ ان کے خیال میں فلموں میں کسی بھی قابل اعتراض سین کی طوالت 10 سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ان بیانا ت نے بالی ووڈ میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ فلموں میں قابل اعتراض سین کی طوالت کیا ہونی چاہیے۔اگر بھارتی فلموں میں ایسے مناظر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر فلموں میں ایک منٹ سے بھی زیادہ طویل قسم کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک منظرجو 4 منٹ کا تھا آج کل کی کسی فلم میں نہیں بلکہ 72سال قبل فلم ”کرما“میں دیویکا رانی اور ہمانشورائے کے درمیان فلمایا گیا تھا،یہ دونوں اداکار حقیقی زندگی میں بھی میاں بیوی تھے،تاہم ہندوستان بھر میں سماجی اورمذہبی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات کے باعث اس منظرکو فلم سے حذف کردیا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ اس قسم کا منظر کسی ہندوستانی فلم میں پیش کیا گیا،اس سے صرف ایک سال قبل فلم ”زرینہ“ میں زبیدہ اور جال مرچنٹ پر بھی ایک سین پکچرائز کرایا گیا تھا، اس پر بھی شدید عوامی ردّعمل دیکھنے میں آیا تھا۔خاموش فلموں کے دور میں بھی 3 یا4 مرتبہ فلموں میں بوس و کنار کے مناظر عکس بند کئے جاچکے تھے۔ اِن پر اْس دور کی انگریز حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تھا،اگرچہ اس نے 1918 میں انڈین سنیماٹو گراف ایکٹ نافذ کیا تھا، جس کی رْو سے فلموں میں برطانوی راج کے خلاف مخالفانہ یا باغیانہ مواد پر پابندی عائد تھی مگرمخرب الاخلاق مناظر کے بارے میں کوئی قانون موجود نہیں تھا۔
تاہم 1930 کے اوائل میں ”زرینہ“ اور ”کرما“ کے مناظر پر احتجاج کے بعد فلم سازوں اور ہدایتکاروں نے از خود فلموں میں قابل اعتراض مناظر کی عکس بندی ترک کردی اور تقریباً 4 عشروں تک یہ سلسلہ رْکا رہا۔اس دوران ہدایتکار فلموں میں جنسی جذبات و کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف علامات اور اشاروں کا استعمال کرنے لگے تھے۔
آزادی کے بعد بھارتی حکومت نے 1952 میں انڈین سنیما ٹو گراف ایکٹ نافذ کیا جس میں پردہ سیمیں پر ہر قسم کے قابل اعتراض مناظر کو ممنوع قرار دیا گیا،اس کے علاوہ فلموں میں تشدد، سماجی بے چینی اور مذہبی منافرت کو اجاگر کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی۔ اس کے لئے ”سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز“ تشکیل دیا گیا۔
تاہم 1970کی دہائی میں اِکا دکا فلموں میں ہیجان انگیر مناظردکھائے جانے لگے، پھر اگلے عشرے میں اس قسم کے رحجانات میں اضافہ ہونے لگا تو حکومت کو بھی سنسر پالیسی میں نرمی اختیار کرنا پڑی۔اس کیلئے 1983 میں سنیما ٹو گراف (سرٹیفیکیشن رولز میں ترمیم کی گئی،تب سے سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن(سی بی ایف سی) کہا جانے لگا ۔ اس کے بعد اور خاص طور پر 1990کی دہائی سے بھارتی فلموں میں قابل اعتراض مناظر عام ہوگئے۔ اب کچھ عرصے سے ہیجان خیز رقص بھی دکھائے جانے لگے ہیں جنہیں ”آئٹم نمبر“ کہا جاتا ہے اور جن فلموں میں ان لوازمات کی بھر مار ہوتی ہے انہیں ’مصالحہ موویز‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم رواں سال کے آغاز پر مودی سرکار نے پہلاج نہالانی کو سی بی ایف سی کا سربراہ مقرر کیا تو ان کے چند اقدامات نے فلمی دنیا میں مختلف تنازعات کو جنم دیا ہے۔دوسری جانب نئے سنسر قوانین بنانے پر زور دیا جارہاہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات گزشتہ چند ماہ سے1952کے انڈین سنیما ٹو گراف ایکٹ میں ترامیم لانے کے لئے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔